سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في العفو والتجاوز في الأمر
باب: عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4786
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا، وَلَا امْرَأَةً قَطُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4786]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم یا عورت کو نہیں مارا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 16664، 17262)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 20 (2328)، سنن ابن ماجہ/النکاح 51 (1984)، مسند احمد (6/206)، سنن الدارمی/النکاح 34 (2264) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أصله عند مسلم (2328)
أصله عند مسلم (2328)
حدیث نمبر: 4176
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلَا الْجُنُبَ، قَالَ: وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق (ایک مرکب خوشبو ہے) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جا کر اسے دھو ڈالو“ میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر (دھبہ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جا کر اسے دھو ڈالو“ میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: ”فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4176]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں (سفر سے واپس آیا اور) رات کو اپنے گھر والوں کے ہاں پہنچا جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے۔ تو انہوں نے مجھے زعفران لگا دی۔ میں صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا، بلکہ فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔“ چنانچہ میں گیا اور اسے دھو ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کا کچھ اثر اور داغ مجھ پر باقی رہ گیا تھا۔ میں نے سلام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہ دیا، نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے آپ سے دھو کر آؤ۔“ چنانچہ میں گیا اور اسے (دوبارہ) دھو کر حاضر خدمت ہوا اور سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا: ”بلاشبہ فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور نہ ایسے آدمی کے پاس آتے ہیں جس نے زعفران لگائی ہو اور نہ جنبی کے پاس آتے ہیں۔“ البتہ جنبی کے لیے رخصت دی کہ ”جب وہ سونا یا کھانا پینا چاہے تو وضو کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10372)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320) وأعاد المؤلف بعضہ فی السنة (4601) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (225) مختصرًا والحديث الآتي (4601)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (225) مختصرًا والحديث الآتي (4601)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
حدیث نمبر: 4785
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4785]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی کا اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ آسان ہی کو اختیار فرمایا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر اس سے دور ہونے والے ہوتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمتوں کی پامالی ہوتی ہو، تو اس میں اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3560)، والأدب 80 (6126)، والحدود 10 (6853)، صحیح مسلم/الفضائل 20 (2327)، (تحفة الأشراف: 16595)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجامع 1 (2)، مسند احمد (6/116، 182، 209، 262) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً زنا میں رجم کرتے یا کوڑے لگاتے اور چوری میں ہاتھ کاٹتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6126) صحيح مسلم (2327)