🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب في الانتصار
باب: بدلہ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4897
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , كَمَا قَالَ سُفْيَانُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4897]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے ایسے ہی روایت کیا ہے، جیسے سفیان نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/342) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5102)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/436)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4896
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَعَ رَجُلٌ بأَبي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ، فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4896]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا اور انہیں اذیت دی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ اس نے پھر دوسری بار اذیت دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ اس نے پھر تیسری بار اذیت دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے بدلے میں کچھ کہا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ اترا تھا جو اس آدمی کو اس کے کہے پر جھٹلا رہا تھا۔ جب تم نے اس سے بدلہ لیا تو شیطان آ گیا۔ اور جب شیطان آ گیا تو میں نہیں بیٹھ سکتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6597، 13050)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/436) (حسن لغیرہ)» ‏‏‏‏ (سعید بن المسیب تابعی ہیں، اس لئے یہ سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن یہ حدیث آنے والی حدیث سے تقویت پاکر حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث الآتي (4897) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں