🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب ما جاء في المتشدق في الكلام
باب: ٹر ٹر باتیں کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5007
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:" قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی ۱؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑ گئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ۲؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ «إن من البيان لسحرا» کہا یا «إن بعض البيان لسحر» کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5007]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مشرق کی جانب سے دو آدمی آئے اور انہوں نے خطاب کیا تو لوگوں کو ان کے اسلوب خطاب و بیان پر بڑا تعجب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 47 (5146)، الطب 51 (5767)، سنن الترمذی/البر والصلة 81 (2029)، (تحفة الأشراف: 6727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/16، 59، 62، 94، 4/263) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان دونوں آدمیوں کے نام زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی آمد کا وواقعہ ۹ ھ کا ہے۔
۲؎: یہ خوبی اگر حق کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو ممدوح ہوتی ہے اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو مذموم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5767)
مشكوة المصابيح (4887)
و للحديث شاھد حسن عند الطبراني في الكبير (1/ 240 ح 662)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5009
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" , قال أَبُو عَلِيٍّ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ: أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبَ، فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا , قال: كَأَنَّ الْمَعْنَى: أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ: أَنْ يَمْدَحَ الْإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ، ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الْآخَرِ، فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہ اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اسے شعروں سے بھرے۔ جناب ابوعلی (ابوعلی لؤلؤی) رحمہ اللہ نے کہا: اس ارشاد کی توضیح میں جناب ابوعبید رحمہ اللہ کا یہ قول ہمیں پہنچا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص شعر و شاعری میں اس قدر منہمک ہو جائے کہ قرآن کریم اور اللہ کے ذکر ہی سے غافل ہو جائے (تو انتہائی مذموم ہے)۔ لیکن قرآن کریم اور مشغلہ علم غالب رہے تو ایسا آدمی ہمارے خیال میں اس کا مصداق نہیں بنتا کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہو۔ (اور یہ حدیث کہ) «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا» بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی انسان کسی کی مدح سرائی پر آئے تو اس عمدگی سے کرے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہو جائیں اور پھر جب اس کی مذمت کرنے لگے تو اس انداز سے کرے کہ لوگ اس کی اس دوسری بات کے پیچھے لگ جائیں۔ گویا کہ اس نے سامعین کو اپنی بات سے مسحور کر دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 92 (6155)، صحیح مسلم/الشعر ح 7 (2257)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2851)، سنن ابن ماجہ/الأدب 1 (3759)، (تحفة الأشراف: 12404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 331، 355، 391، 480) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (6155) مسلم (2257)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5010
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5010]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کئی شعر حکمت بھرے ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 9 (6145)، سنن ابن ماجہ/الأدب 41 (3755)، (تحفة الأشراف: 59)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/125، 126)، سنن الدارمی/الاستئذان 68 (2746) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5011
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا".
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار «حكم» ۱؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5011]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنے مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں اور بلاشبہ کئی شعر حکمت ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 69 (2845)، سنن ابن ماجہ/الأدب 41 (3756)، (تحفة الأشراف: 6106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 309، 313، 327، 332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہاں «حُکْم» ، «حِکْمَتْ» کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ «وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديثين السابقين (5009، 5010)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا" , فقال صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَهُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِهِ فَيَذْهَبُ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَى عِلْمِهِ مَا لَا يَعْلَمُ فَيُجَهِّلُهُ ذَلِكَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، فَهِيَ هَذِهِ الْمَوَاعِظُ وَالْأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِهَا النَّاسُ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، فَعَرْضُكَ كَلَامَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَى مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ وَلَا يُرِيدُهُ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں (یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے)، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5012]
سیدنا صخر بن عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے، انہوں نے دادا (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بلاشبہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور کئی علم جہالت، بیشک کئی شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض اقوال محض بوجھ۔ اس پر صعصعہ بن صوحان رحمہ اللہ نے کہا: سچ فرمایا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض اوقات آدمی کے ذمے کوئی حق ہوتا ہے (کہ وہ حقدار کو ادا کرے) مگر وہ حقدار کے مقابلے میں چرب زبان ہوتا ہے تو لوگوں کو اپنے بیان سے مسحور کر لیتا ہے اور حق مار لیتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: بعض علم جہالت ہوتے ہیں۔ یوں ہے کہ بعض اوقات کوئی صاحبِ علم ان امور میں جن کی اسے کوئی خبر نہیں ہوتی، تکلف سے بات کرتا ہے تو جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: کئی شعر حکمت ہوتے ہیں۔ تو اس سے مراد وہ اشعار ہیں جن میں وعظ و نصیحت اور عمدہ مثالیں ذکر ہوتی ہیں جن سے لوگ نصیحت پاتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا: کئی اقوال محض بوجھ ہوتے ہیں۔ یوں ہے کہ آپ اپنی بات ایسے شخص کے سامنے پیش کرنے لگیں جو اس کے ذوق و مزاج کے مطابق نہ ہو اور نہ وہ اس کا خواہاں ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1979، 18817) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن ثابت ابوجعفر مجہول اور صخر بن عبداللہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن ثابت النحوي : مجهول(تق: 3241) وشيخه صخر بن عبداﷲ مقبول (تقريب التهذيب: 2906) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 174

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں