سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يقول إذا أصبح
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5072
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالُوا: هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ , قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ".
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں“ تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہو جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5072]
جناب ابوسلام (ممطور الحبشی) رحمہ اللہ حمص کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک شخص گزرا، لوگوں نے بتایا کہ یہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم رہا ہے، تو ابوسلام رحمہ اللہ اس کی طرف اٹھ کر گئے اور کہا: ”مجھے ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور وہ صرف آپ کو بتائی ہو، عام لوگوں سے نہ کہی ہو۔“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص صبح یا شام کو یہ پڑھ لیا کرے «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب، اسلام ہمارا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول ہیں“ تو اللہ پر یہ حق ہو گا کہ وہ اسے راضی کر دے۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 17 (3870)، (تحفة الأشراف: 12050، 15675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/337، 5/367) (ضعیف) (اس کے راوی ''سابق بن ناجیہ'' لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2399)
سابق بن ناجية حسن الحديث
مشكوة المصابيح (2399)
سابق بن ناجية حسن الحديث
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا“ تو جنت اس کے لیے واجب گئی“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 1529]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“ کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:4268)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 31 (1884)، سنن النسائی/الجہاد 18 (3133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح