سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يقول إذا أصبح
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5079
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْفِلَسْطِينِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيِّ،" عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِذَا انْصَرَفْتَ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ، ثُمَّ مِتَّ فِي لَيْلَتِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ، فَقُلْ كَذَلِكَ، فَإِنَّكَ إِنْ مِتَّ فِي يَوْمِكَ كُتِبَ لَكَ جِوَارٌ مِنْهَا" , أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ الْحَارِثِ، أَنَّهُ قَالَ: أَسَرَّهَا إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ نَخُصُّ بِهَا إِخْوَانَنَا.
مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو سات مرتبہ کہو «اللهم أجرني من النار» ”اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے“ اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہو گیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی (یعنی سات مرتبہ «اللهم أجرني من النار») کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں (ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5079]
مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رازدارانہ انداز میں فرمایا: ”جب تم نمازِ مغرب سے سلام پھیرو تو سات بار «اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! مجھے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ“ کہہ لیا کرو، اگر تم یہ کہہ لو اور اسی رات مر جاؤ تو تمہارے لیے جہنم سے بچاؤ لکھ دیا جائے گا اور جب صبح کی نماز پڑھ چکو تو اسی طرح کہہ لیا کرو، اگر تم اس دن میں مر گئے تو تمہارے لیے جہنم سے بچاؤ لکھ دیا جائے گا۔“ ابوسعید نے حارث سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بالخصوص) رازدارانہ انداز میں فرمایا تھا، تو ہم (بھی یہ) اپنے بھائیوں کو بالخصوص بتاتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3281) (ضعیف)» (الحارث بن مسلم (صحابی کے لڑکے) مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (الحارث بن مسلم: حسن الحديث علي الراجح)
مشكوة المصابيح (الحارث بن مسلم: حسن الحديث علي الراجح)
حدیث نمبر: 5080
حَدَّثَنَا , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ , وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَحْوَهُ: إِلَى قَوْلِهِ: جِوَارٌ مِنْهَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِمَا قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَ أَحَدًا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ فِيهِ: إِنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ الْمُصَفَّى: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي , وَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ، فَقُلْتُ لَهُمْ: قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ تُحْرَزُوا، فَقَالُوهَا، فَلَامَنِي أَصْحَابِي، وَقَالُوا: حَرَمْتَنَا الْغَنِيمَةَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَدَعَانِي فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ: أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا" , قال عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ بِالْوَصَاةِ بَعْدِي , قال: فَفَعَلَ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَقَالَ لِي، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُمْ، وقَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ.
حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے (ہمیں دیکھ کر) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو (ایمان لے آؤ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے (عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں (وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا)، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5080]
عبدالرحمٰن بن حسان کنانی نے روایت کیا کہ مجھے مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اور «جِوَارٍ مِنْهَا» ”اس سے پناہ“ تک روایت کی۔ مگر اس میں ہے کہ یہ کلمہ «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! مجھے آگ سے پناہ عطا فرما۔“ (سلام کے بعد) کسی سے بات کرنے سے پہلے کہے۔ علی بن سہل نے کہا کہ مسلم بن حارث کے والد نے اپنے بیٹے کو یہ حدیث بیان کی، جبکہ علی بن سہل اور محمد بن مصفٰی نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم میں روانہ کیا۔ جب ہم لڑائی کے مقام پر پہنچ گئے تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیز دوڑایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا تو مجھے دشمن قبیلے کی آوازیں سنائی دیں۔ میں نے ان سے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ کہہ لو بچ جاؤ گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے یہ کلمہ کہہ دیا۔ تو میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہنے لگے کہ تم نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا۔ پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ساتھیوں نے وہ واقعہ بیان کیا کہ جو کچھ میں نے کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے عمل کی تحسین فرمائی اور فرمایا: ”اللہ نے تیرے لیے ان میں سے ہر ہر بندے کی وجہ سے اتنا اتنا ثواب لکھا ہے۔“ عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن حسان) نے کہا کہ مجھے اس ثواب کی تفصیل بھول گئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! بیشک میں اپنے بعد تمہارے لیے وصیت لکھ دیتا ہوں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور اس تحریر میں مہر لگا کر میرے حوالے کر دی اور مجھ سے فرمایا۔ پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی ذکر کیا۔ ابن مصفٰی نے کہا: میں نے حارث بن مسلم بن حارث تمیمی سے سنا، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3281) (ضعیف)» (صحابی کے بیٹے مسلم مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (انظر الحديث السابق (5079))
مشكوة المصابيح (انظر الحديث السابق (5079))