سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. باب في قتل الذر
باب: چیونٹی مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5268
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ سَعْدٍ , قَالَ أبو داود: وَهُوَ الْحَسَنُ بن سعد , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ , فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ , فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا , فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ , فَجَعَلَتْ تُفَرِّشُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا , وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا , فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ , قُلْنَا: نَحْنُ , قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: ”کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو“، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: ”آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5268]
سیدنا عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے بھی تھے۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو ان کی ماں اپنے بچوں پر گرنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: ”اس کو اس کے بچوں سے کس نے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چیونٹیوں کا ایک بل ہم نے جلا ڈالا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کو کس نے جلایا ہے؟“ ہم نے بتایا کہ ہم نے جلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کے رب (اللہ تعالیٰ) کے سوا کسی کو روا نہیں کہ کسی کو آگ سے عذاب دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2675)، (تحفة الأشراف: 9362) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2675)
انظر الحديث السابق (2675)
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ، فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا، میں اس سریہ میں نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا“، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 2673]
محمد بن حمزہ اسلمی اپنے والد (حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک دستے کا امیر بنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب میں روانہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں فلاں شخص مل جائے تو اس کو آگ سے جلا دینا۔“ میں نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پاؤ تو اسے قتل کر دینا، جلانا نہیں، بلاشبہ آگ سے عذاب، آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 2673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3441)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/494) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: البتہ آگ سے کافروں کے کھیتوں، باغوں اور بستیوں کو جلانا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ سَعْدٍ، قَالَ: غَيْرُ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ قُلْنَا نَحْنُ قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا: ”اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو“، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: ”اس کو کس نے جلایا ہے؟“ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 2675]
سیدنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی، اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے تو چڑیا آئی اور (بچوں کے اوپر اردگرد) منڈلانے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”کس نے اس کو اس کے بچوں سے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچوں کو چھوڑ دو۔“ (ایک دوسرے موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چیونٹیوں کے بڑے بل کو ہم نے جلا ڈالا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کو کس نے جلایا ہے؟“ ہم نے کہا: ”ہم نے جلایا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کے رب کے سوا کسی کو روا نہیں کہ آگ سے عذاب دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 2675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/404)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3542)
مشكوة المصابيح (3542)
حدیث نمبر: 5267
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةُ , وَالنَّحْلَةُ , وَالْهُدْهُدُ , وَالصُّرَدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5267]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے: ”چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور لٹورا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصید 10 (3224)، (تحفة الأشراف: 5850)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332)، سنن الدارمی/الأضاحي 26 (2142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3224)
الزھري عنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3224)
الزھري عنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182