🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی (مسجد سے) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر تو) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 552]
سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں، گھر دور ہے اور میرا قائد (ہاتھ پکڑ کر لانے والا) میری مدد نہیں کرتا، تو کیا میرے لیے رخصت ہے کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اذان سنتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 17 (752)، (تحفة الأشراف: 10788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 50 (851)، مسند احمد (3/423) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (792)
في سماع أبي رزين مسعود بن مالك من ابن أم مكتوم نظر
وحديث مسلم (653) وأحمد (3/ 423) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيَّ: هَلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: حَيَّ هَلًا.
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں`: اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» (یعنی اذان) سنتے ہو؟ تو (مسجد) آیا کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» (آیا کرو) کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 553]
سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں۔ (کیا میرے لیے رخصت ہے کہ گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» (کی آواز) سنتے ہو تو ضرور آؤ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: قاسم جرمی نے بھی سفیان سے ایسے ہی روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں «حَيَّ هَلَا» ضرور آؤ۔ کے لفظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 50 (852)، (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (852)
سفيان الثوري عنعن
وحديث مسلم (653) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں