🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. باب فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ"، قَالَ زَائِدَةُ: قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ: الصَّلَاةَ فِي الْجَمَاعَةِ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 547]
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، فرماتے تھے: جس کسی گاؤں یا بستی میں تین فرد بھی ہوں اور ان میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہو، تو شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو۔ بھیڑیا ہمیشہ دور رہنے والی اکیلی بکری ہی کو کھاتا ہے۔ جناب زائدہ بیان کرتے ہیں کہ سائب نے کہا: جماعت سے مراد باجماعت نماز ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 48 (848)، مسند احمد (5/196، 6/446)، (تحفة الأشراف: 10967) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: جماعت کو لازم پکڑو کی تاکید سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ نماز باجماعت کا اہتمام ہے۔ اس جملے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اجتماعیت کا التزام رکھو اور کوئی عقیدہ یا عمل ایسا اختیار نہ کرو جو جماعت صحابہ کے عقیدہ و عمل کے برعکس ہو۔ جماعت اور اجتماعیت میں عدد اور گنتی کی اہمیت نہیں ہے۔ کیونکہ دین اسلام کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر ہے۔ اس کے اختیار کرنے ہی میں اجتماعیت ہے خواہ افراد کتنے ہی کم ہوں اور اس اصل کو چھوڑنے میں افتراق ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ دیکھئیے ابراہیم علیہ السلام کو اکیلے ہوتے ہوئے بھی امت قرار دیا گیا ہے۔ «إن إبراهيم كان أمة قانتا للـه حنيفا ولم يك من المشركين» (النحل ۱۲۰)۔ بلاشبہ ابراہیم ایک امت تھے اللہ کے مطیع، یکسو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1067، 184)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے سوچا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 548]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور خود ایسے لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز (کی جماعت) میں حاضر نہیں ہوتے اور میرے ساتھ کچھ لوگ ہوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد 17 (791)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 1 (3)، (تحفة الأشراف: 12527)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، 34 (657)، والخصومات 5 (2420)، والأحکام 52 (7224)، صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن الترمذی/الصلاة 48 (217)، سنن النسائی/الإمامة 49 (849)، مسند احمد (2/244، 376، 489، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (657) صحيح مسلم (651)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ"، قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ: يَا أَبَا عَوْفٍ، الْجُمُعَةَ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا، قَالَ: صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 549]
جناب یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھے اکٹھے کریں، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اپنے گھروں میں نمازیں پڑھتے ہیں، حالانکہ انہیں کوئی عذر نہیں ہے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ (یزید بن یزید نے کہا) میں نے (اپنے شیخ) یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! اس سے آپ کی مراد جمعہ (کی نماز) تھی یا کچھ اور؟ انہوں نے کہا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔ انہوں نے جمعہ یا دوسری نماز کا ذکر نہیں کیا۔ (یعنی کوئی تخصیص نہیں، جمعہ سمیت تمام نمازوں کی جماعت کا مسئلہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن الترمذی/الطہارة 48 (271)، (تحفة الأشراف: 14819) (صحیح)» ‏‏‏‏ حدیث میں واقع یہ اضافہ: «ليست بهم علة» صحیح نہیں ہے
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ليست بهم علة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (651)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" حَافِظُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَفَرْتُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ترک کر دیا تو کافروں جیسا کام کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 550]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان پانچوں نمازوں کی حفاظت اور پابندی اختیار کرو جہاں کہیں ان کے لیے اذان کہی جائے، کیونکہ نمازوں کی (باجماعت) پابندی سنن ہدی میں سے ہے (یعنی حق و ہدایت کی راہ ہے)۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کی سنتیں مشروع کی ہیں۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ واضح اور کھلے منافق کے علاوہ کوئی بھی جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا۔ اور میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے کہ ایک آدمی کو دو دو افراد سہارا دے کر لاتے تھے اور اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا اور تم ہو کہ ہر ایک نے اپنے گھر ہی میں مسجد بنا رکھی ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھنے لگو اور مسجدوں کو چھوڑ دو، تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے۔ اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو کافر ہو جاؤ گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 44 (654) بلفظ: ’’ضللتم‘‘، سنن النسائی/الإمامة 50 (850)، (تحفة الأشراف: 9502)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 14 (781)، مسند احمد (1/382، 414) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م بلفظ لضللتم وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (654)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ، قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عَنْ مَغْرَاءَ أَبُو إِسْحَاقَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو (لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 551]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سنا اور اس کی اتباع کرنے میں (یعنی مسجد میں آنے سے) اسے کوئی عذر مانع نہ ہوا۔ سننے والوں نے پوچھا: عذر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کوئی خوف یا بیماری۔ تو ایسے آدمی کی نماز جو وہ پڑھے گا مقبول نہ ہو گی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: مغراء سے ابواسحاق نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 17 (793)، (تحفة الأشراف: 5560) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «ما العذر» والا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیح لفظ «لا صلاة له» ہے) (ابن ماجہ وغیرہ کی سند سے یہ حدیث صحیح ہے ورنہ مؤلف کی سند میں ابوجناب کلبی اور مغراء ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة العذر وبلفظ ولا صلاة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو جناب يحيي بن أبي حية الكلبي ضعيف مدلس راجع تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء (404)
وحديث ابن ماجه (793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی (مسجد سے) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر تو) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 552]
سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں، گھر دور ہے اور میرا قائد (ہاتھ پکڑ کر لانے والا) میری مدد نہیں کرتا، تو کیا میرے لیے رخصت ہے کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اذان سنتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 17 (752)، (تحفة الأشراف: 10788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 50 (851)، مسند احمد (3/423) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (792)
في سماع أبي رزين مسعود بن مالك من ابن أم مكتوم نظر
وحديث مسلم (653) وأحمد (3/ 423) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيَّ: هَلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: حَيَّ هَلًا.
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں`: اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» (یعنی اذان) سنتے ہو؟ تو (مسجد) آیا کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» (آیا کرو) کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 553]
سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں۔ (کیا میرے لیے رخصت ہے کہ گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» (کی آواز) سنتے ہو تو ضرور آؤ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: قاسم جرمی نے بھی سفیان سے ایسے ہی روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں «حَيَّ هَلَا» ضرور آؤ۔ کے لفظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 50 (852)، (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (852)
سفيان الثوري عنعن
وحديث مسلم (653) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں