🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة
باب: نماز کی طرف چلنے کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہا ہوں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ جب بھی اپنا داہنا قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے، اور جب بھی اپنا بایاں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد سے قریب رہے اور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے، اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے جماعت سے نماز پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا اور اگر وہ مسجد میں اس وقت آیا جب کہ (جماعت شروع ہو چکی تھی اور) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ باقی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھیں اور جو رہ گئی تھیں بعد میں پوری کیں تو وہ بھی اسی طرح (اجر و ثواب کا مستحق) ہو گا، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ نماز ختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نماز پڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 563]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور محض اجر کے لیے سناتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح کرتا ہے پھر نماز کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور وہ بایاں قدم نہیں ٹکاتا کہ اللہ عزوجل اس کی ایک غلطی معاف کر دیتا ہے۔ تو جو چاہے (مسجد کے) قریب رہے یا بعید (تمہاری مرضی ہے)۔ اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ کچھ نماز پڑھ چکے تھے اور کچھ باقی تھے تو جو اسے مل گئی اس نے ان کے ساتھ پڑھی اور باقی کو پورا کر لیا تو ایسے ہی ہو گا۔ (یعنی اس کی بھی مغفرت ہو گی)۔ اور اگر وہ مسجد میں آیا اور لوگ نماز پڑھ چکے تھے پھر اس نے (اکیلے ہی) نماز پوری کی تو بھی ایسے ہی ہو گا۔ (یعنی بخشا جائے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود،(تحفة الأشراف: 15583) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معبد بن ھرمز مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
والحديث الآتي (الأصل : 564) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ، أَعْظَمُ أَجْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسجد سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی اس کا ثواب زیادہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 556]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جتنا مسجد سے دور ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ ثواب کا حقدار ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تخريج: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 15 (782)، (تحفة الأشراف: 13597)، وقد أخرجہ: حم (2/351، 428) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جو شخص جس قدر زیادہ قدم چل کر جائے گا اور مشقت برداشت کرے گا اس کو اسی قدر ثواب بھی زیادہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (1/68 وسنده حسن) وله شاھد في صحيح مسلم (662)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ، فَقَالَ: أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَنْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر (مسجد) آیا کرتے (تو زیادہ اچھا ہوتا) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 557]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تھا، جہاں تک میں جانتا ہوں، اہل مدینہ میں قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے والوں میں اس کا گھر سب سے دور تھا اور مسجد میں کوئی نماز بھی اس سے نہ چوکتی تھی۔ میں نے اس سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں، گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوں (تو سہولت رہے)۔ اس نے کہا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو۔ اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نیت یہ ہے کہ میرا مسجد میں آنا اور یہاں سے گھر واپس جانا سب ہی لکھا جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں یہ سب عطا فرما دیا۔ جس اجر و ثواب کی تو نے امید کی ہے اللہ نے وہ سب عنایت فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 49 (663)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 16 (783)، (تحفة الأشراف: 64)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 60 (1321) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (663)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 564]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا (یعنی سنت کے مطابق کامل وضو) پھر (مسجد کی طرف) گیا مگر لوگوں کو پایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اللہ عزوجل ایسے بندے کو بھی اتنا ہی اجر عنایت فرماتا ہے جتنا کہ اس کو جس نے جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھی ہو۔ اور یہ ان کے اجروں میں کسی کمی کا باعث نہیں ہوتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 52 (856)، (تحفة الأشراف: 14281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/380) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں