🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب ما جاء في بئر بضاعة
باب: بضاعہ نامی کنویں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں، جبکہ یہ کنواں ایسا ہے کہ اس میں حیض کے چیتھڑے، کتوں کا گوشت اور گندگی ڈال دی جاتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، بعض نے راوی کا نام عبداللہ بن رافع کی بجائے عبدالرحمٰن بن رافع بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 49 (66)، سنن النسائی/المیاہ 1 (327، 328)، (تحفة الأشراف: 4144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 16، 31، 86) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (478)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ الْعَلَاءِ، وقَالَ عُثْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ الصَّوَابُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں (اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا (یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی) ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسے) پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے وارد ہوتے ہیں (مثلاً تالاب میں داخل ہو جاتے یا اس سے پیتے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (محمد) ابن العلاء کی روایت میں محمد بن جعفر بن زبیر آیا ہے جب کہ عثمان بن ابی شیبہ اور حسن بن علی کی روایت میں محمد بن عباد بن جعفر منقول ہوا ہے اور یہی (ثانی الذکر) صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 43 (52)، (تحفة الأشراف: 7272)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 50 (367)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 75 (517، 518)، سنن الدارمی/الطھارة 55 (758) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہو گا، (الایہ کہ اس کا رنگ، بو، اور مزہ بدل جائے) دو قلہ کی مقدار (۵۰۰) عراقی رطل ہے اور عراقی رطل (۹۰) مثقال کے برابر ہوتا ہے، انگریزی پیمانے سے دو قلہ کی مقدار تقریباً دو کوئنٹل کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (477)
عبد الله وعبيد الله، ابنا عبد الله بن عمر: ثقتان، ومحمد بن جعفر بن الزبير ومحمد بن عباد بن جعفر ثقتان كما في تقريب التهذيب وغيره، فالإختلاف في السند لا يضر لأنه انتقال ثقة إلٰي ثقة وللحديث شواھد كثيرة منھا حديث حماد بن سلمة عند أبي داود (65) وغيره وسنده حسن وقال ابن معين: ’’فالحديث جيد الإسناد‘‘ (تاريخ ابن معين رواية الدوري: 4/ 240 الرقم: 4152)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے (اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7305) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (477)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے (چلو سے پانی لے لے کر) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی (اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے لگن میں سے غسل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو یا غسل کرنا چاہتے تھے، تو اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: اے اللہ کے رسول! میں جنابت سے تھی (اور میں نے اسی پانی سے غسل کیا ہے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تو کیا ہوا؟) پانی جنبی نہیں ہوتا (پاک ہی رہتا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 48 (65)، سنن النسائی/المیاہ (326) بلفظ: ’’لا ینجسہ شيء‘‘، سنن ابن ماجہ/الطھارة 33 (370، 371)، (تحفة الأشراف: 6103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 248، 308، 337)، سنن الدارمی/الطھارة 57 (761) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی پاک ہوتا ہے اور اس میں چھینٹیں پڑنے سے اس کی پاکی متأثر نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (65)،نسائي (326)،ابن ماجه (370)
سلسلة سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة،انظر نيل المقصود في تعليق سنن ابي داود (ق 37/1) وسير أعلام النبلاء (248/5)
وانظر الحديث الآتي (2238)
وحديث مسلم (323) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں