سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب تسوية الصفوف
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ:" اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ".
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: ”برابر ہو جاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 669]
جناب محمد بن مسلم بن سائب صاحبِ مقصورہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں رکھی ہوئی ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم!“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہاتھ رکھا کرتے تھے (یعنی اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا کرتے تھے) اور فرماتے تھے: ”برابر ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔“” [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1474)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/254) (ضعیف)» (مصعب اور محمد بن مسلم دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف وقال في التقريب (6686) ’’ لين الحديث وكان عابدًا ‘‘وقال الھيثمي في مجمع الزوائد : ’’ والأكثر علٰي تضعيفه ‘‘ (1/ 25)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف وقال في التقريب (6686) ’’ لين الحديث وكان عابدًا ‘‘وقال الھيثمي في مجمع الزوائد : ’’ والأكثر علٰي تضعيفه ‘‘ (1/ 25)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجُدَلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِير، يَقُولُ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ"، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَلْزَقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ.
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا ”اپنی صفیں برابر کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔“ قسم اللہ کی! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 662]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا: ”اپنی صفیں برابر کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا: ”قسم اللہ کی! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11616) (صحیح)»
وضاحت: اس حدیث میں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر تعمیل کی وضاحت کر دی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صفوں میں خوب جڑ کر کھڑے ہوتے تھے، حتی کہ کوئی خلا باقی رہتا نہ کوئی ٹیڑھ۔ شرعی تعلیمات سے اعراض کا نتیجہ آپس کی پھوٹ اور نفرت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جیسے کہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں «اعاذنا اللہ منہ» ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دل کا معاملہ ظاہری اعضاء و اعمال کے ساتھ بھی ہے۔ اگر ظاہری اعمال صحیح ہوں تو دل بھی صحیح رہتا ہے اور اس کے برعکس بھی آیا ہے کہ اگر دل صحیح ہو تو باقی جسم صحیح رہتا ہے۔ امام کو چاہیے کہ اس سنت کو زندہ کرتے ہوئے نمازیوں کو تکبیر تحریمہ سے پہلے تاکید کرے کہ آپس میں مل کر کھڑے ہوں۔ بلکہ عملاً صفیں سیدھی کرائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق بجملة الأمر بتسوية الصفوف وجملة المنكب بالمنكب عقله خ عن أنس
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
زكريا بن أبي زائدة صرح بالسماع عند ابن خزيمة (160) والدارقطني (1/283) وغيرھما
زكريا بن أبي زائدة صرح بالسماع عند ابن خزيمة (160) والدارقطني (1/283) وغيرھما
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَقِهْنَا أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ إِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ:" لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں (اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 663]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفوں میں ایسے برابر اور سیدھا کیا کرتے تھے جیسے کہ تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے یہ درس لے لیا اور اسے خوب سمجھ لیا ہے، تو ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(قسم اللہ کی!) تم لوگ یا تو صفوں کو برابر کرو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے مابین مخالفت پیدا کر دے گا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن الترمذی/الصلاة 55 (227)، سنن النسائی/الإمامة 25 (811)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 11620)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/270، 271، 272، 276، 277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (436)
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو عَاصِمِ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا، وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے)، اور فرماتے تھے: ”(صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے دعائیں کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 664]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان ایک طرف سے دوسری طرف کو چلتے جاتے۔ (اس اثناء میں) آپ ہمارے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے ”آگے پیچھے مت ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف آ جائے گا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اللہ عزوجل پہلی صفوں میں آنے والوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأذان 14 (647)، والإمامة 25 (812)، (تحفة الأشراف: 1776)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 51 (993)، مسند احمد (4/284، 285، 297، 298، 299، 304)، دی/الصلاة 49(1299) (صحیح)»
وضاحت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملاً صفوں کو برابر کرانا اس کے انتہائی تاکیدی عمل ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1095)
مشكوة المصابيح (1095)
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہو جاتے تو آپ «الله أكبر» کہتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 665]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو برابر کرتے۔ جب ہم درست ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 663، (تحفة الأشراف: 11620) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1097)
مشكوة المصابيح (1097)
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ أَتَمُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عُمَرَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، لَمْ يَقُلْ عِيسَى: بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو شَجَرَةَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَعْنَى وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ: إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الصَّفِّ فَذَهَبَ يَدْخُلُ فِيهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُلِينَ لَهُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لينوا بأيدي إخوانكم» کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہو جائے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 666]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو درست کر لو، کندھوں کو برابر رکھو، درمیان میں فاصلہ نہ رہنے دو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم بن جاؤ۔“ راوی حدیث عیسیٰ بن ابراہیم نے «بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ» ”اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں“ کے لفظ بیان نہیں کیے۔ ”اور شیطان کے لیے خلا نہ چھوڑو۔ جس نے صف کو ملایا، اللہ اسے ملائے اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اسے کاٹے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (راوی حدیث) ”ابو شجرہ“ سے مراد کثیر بن مرہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ۔“ کا معنی یہ ہے کہ جب کوئی صف میں داخل ہونا چاہے تو (صف میں پہلے سے موجود) ہر شخص کو اپنے کندھے نرم کر دینے چاہئیں تاکہ وہ صف میں داخل ہو سکے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 31 (820)، (تحفة الأشراف: 7380، 19235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97) (صحیح)»
وضاحت: ”جس نے صف کو ملایا“۔ یعنی جو نماز کی صف میں حاضر ہوا، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہوا، اس میں کوئی خلا یا کجی پیدا نہ کی تو اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے کہ اللہ اس کو اپنی رحمت خاص سے ملائے، اور جس نے صف کو کاٹا یعنی مذکورہ امور کے برعکس کیا تو اللہ اس کو اپنی رحمت سے محرم رکھے۔ ”بھائیوں کے لیے نرم ہونے“ کے معنی یہ ہیں کہ صفیں درست کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ خوش دلی سے تعاون کیا جائے۔ آگے پیچھے ہونے کے معاملے میں وہ جو کہیں مان لیا جائے اور ناراض نہ ہوا جائے، نیز یہ معنی بھی ہیں کہ اگر صف میں جگہ ممکن ہو تو دوسرے ساتھی کو جگہ دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1102)
عبد الله بن وھب صرح بالسماع عند الحاكم (1/213)
مشكوة المصابيح (1102)
عبد الله بن وھب صرح بالسماع عند الحاكم (1/213)
حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 667]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو، انہیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ خالی جگہوں میں سے تمہاری صفوں میں گھس آتا ہے گویا وہ بکری کا بچہ ہو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 28 (816)، (تحفة الأشراف: 1132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/260، 283) (صحیح)»
وضاحت: شیطان مومنین مخلصین پر ہر آن اور ہر مقام پر حملے کے لیے گھات میں رہتا ہے جب وہ نماز کی صفوں سے گھس آتا ہے تو مسجد سے باہر اور عام حالات میں اس کا حملہ اور سخت ہوتا ہو گا لہذا ہر مسلمان کو اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہیے اور اس کی واحد صورت شریعت کا علم حاصل کرنا اور پھر تمام چھوٹے بڑے امور پر بلا تخصیص عمل پیرا ہوا ہے۔ «وباللہ التوفیق»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1093، 1100)
قتادة صرح بالسماع عند النسائي (816)
مشكوة المصابيح (1093، 1100)
قتادة صرح بالسماع عند النسائي (816)
حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے (یعنی اس کے بغیر نماز ادھوری رہتی ہے)“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 668]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو سیدھا اور برابر کرو، بلاشبہ صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 74 (723)، صحیح مسلم/الصلاة 28 (433)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 50 (993)، (تحفة الأشراف: 1243)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 27 (812)، مسند احمد (3/177، 179، 254، 274، 279، 291)، سنن الدارمی/ الصلاة 48 (1298) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (723) صحيح مسلم (433)
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 671]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پہلے) پہلی صف کو پورا کرو پھر جو صف اس کے بعد ہو۔ اور جو کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 30 (819)، (تحفة الأشراف: 1195)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 215، 233) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1094)
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند ابن خزيمة (1547) وأبان بن يزيد العطار عند ابن حبان (موارد: 391)
مشكوة المصابيح (1094)
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند ابن خزيمة (1547) وأبان بن يزيد العطار عند ابن حبان (موارد: 391)
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَسَمِعَتْهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
جناب یحییٰ بن بشیر بن خلاد اپنی والدہ سے راوی ہیں کہ وہ محمد بن کعب قرظی کے پاس آئیں تو انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف سے آگے) درمیان میں کھڑا کرو اور صف کے خلا کو پورا کرو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14600) (ضعیف)» (لیکن حدیث میں واقع دوسرا جملہ «وسدوا الخلل» صحیح ہے) (یحییٰ بن بشیر کی والدہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الثاني منه صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أمة الواحد مجهولة (تقريب : 8534)
وابنھا يحيي بن بشير بن خلاد مستور (تقريب :7515)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
أمة الواحد مجهولة (تقريب : 8534)
وابنھا يحيي بن بشير بن خلاد مستور (تقريب :7515)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَعَلَّمَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ:"إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ. فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ: وَبَرَكَاتُهُ، وَلَا قَالَ: وَأَشْهَدُ، قَالَ: وَأَنَّ مُحَمَّدًا.
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا (ابھی) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ۱؎ اور جب وہ «الله أكبر» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی «الله أكبر» کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ اس کے برابر ہو گیا ۲؎ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے «سمع الله لمن حمده» یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ احمد نے اپنی روایت میں: «وبركاته» کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی «أشهد» کہا بلکہ «وأن محمدا» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 972]
جناب حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، نماز کے آخر میں جب بیٹھے تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ برقرار کی گئی۔“ جب سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نماز سے پھرے تو کہا: ”کس نے یہ یہ الفاظ کہے ہیں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ پوچھا کہ: ”یہ یہ الفاظ کس نے کہے ہیں؟“ لوگ خاموش رہے تو انہوں نے حطان سے کہا: ”اے حطان! شاید تم نے یہ کہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”میں نے نہیں کہے اور مجھے اندیشہ تھا کہ آپ مجھے ہی ڈانٹیں گے۔“ تب ایک شخص نے کہا: ”میں نے یہ الفاظ کہے ہیں اور خیر ہی کا ارادہ کیا ہے۔“ تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ اپنی نماز میں تمہیں کیا اور کیسے کہنا ہے؟ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں تعلیم فرمائی اور ہمیں ہماری نماز کا طریقہ سکھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست بناؤ، پھر تم میں سے کوئی ایک تمہاری امامت کرائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِيْن» ”اے اللہ! قبول فرما“ پکارو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جب وہ (امام) تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے بدلے میں ہے اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم کہو «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، اللہ تمہاری سنے گا اور قبول کرے گا، بلاشبہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا ہے کہ ”اللہ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے اس کی جو اس کی حمد کرے۔“ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے کو جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں چلے جاؤ، امام تم سے پہلے سجدہ کرتا اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اس کے بدلے میں ہے، اور جب قعدہ کرے (تشہد میں بیٹھے) تو تمہارے اولین الفاظ یہ ہونے چاہییں: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے ہیں“۔“ جناب احمد نے «وَبَرَكَاتُهُ» ”اور اس کی برکتیں“ اور «أَشْهَدُ» ”میں گواہی دیتا ہوں“ کے الفاظ بیان نہیں کیے بلکہ «وَأَنَّ مُحَمَّدًا» ”اور یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )“ کہا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، سنن النسائی/الإمامة 38 (831)، والتطبیق 23 (1065)، 101 (1173)، والسھو 44 (1281)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 24 (901)، (تحفة الأشراف: 8987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/401، 405، 409)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1351) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎:مسلم کی روایت میں «يجبكم» ہے یعنی:اللہ تمہاری دعا قبول کر لے گا۔
۲؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہو گئی۔
۲؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے رکوع میں گیا اتنا ہی پہلے وہ رکوع سے اٹھ گیا اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (404)