🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب تسوية الصفوف
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ أَتَمُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عُمَرَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، لَمْ يَقُلْ عِيسَى: بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو شَجَرَةَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَعْنَى وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ: إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الصَّفِّ فَذَهَبَ يَدْخُلُ فِيهِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُلِينَ لَهُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لينوا بأيدي إخوانكم» کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہو جائے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 666]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوں کو درست کر لو، کندھوں کو برابر رکھو، درمیان میں فاصلہ نہ رہنے دو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم بن جاؤ۔ راوی حدیث عیسیٰ بن ابراہیم نے «بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ» اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں کے لفظ بیان نہیں کیے۔ اور شیطان کے لیے خلا نہ چھوڑو۔ جس نے صف کو ملایا، اللہ اسے ملائے اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اسے کاٹے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (راوی حدیث) ابو شجرہ سے مراد کثیر بن مرہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ۔ کا معنی یہ ہے کہ جب کوئی صف میں داخل ہونا چاہے تو (صف میں پہلے سے موجود) ہر شخص کو اپنے کندھے نرم کر دینے چاہئیں تاکہ وہ صف میں داخل ہو سکے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 31 (820)، (تحفة الأشراف: 7380، 19235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جس نے صف کو ملایا۔ یعنی جو نماز کی صف میں حاضر ہوا، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہوا، اس میں کوئی خلا یا کجی پیدا نہ کی تو اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے کہ اللہ اس کو اپنی رحمت خاص سے ملائے، اور جس نے صف کو کاٹا یعنی مذکورہ امور کے برعکس کیا تو اللہ اس کو اپنی رحمت سے محرم رکھے۔ بھائیوں کے لیے نرم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صفیں درست کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ خوش دلی سے تعاون کیا جائے۔ آگے پیچھے ہونے کے معاملے میں وہ جو کہیں مان لیا جائے اور ناراض نہ ہوا جائے، نیز یہ معنی بھی ہیں کہ اگر صف میں جگہ ممکن ہو تو دوسرے ساتھی کو جگہ دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1102)
عبد الله بن وھب صرح بالسماع عند الحاكم (1/213)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كثير بن مرة الحضرمي، أبو شجرة، أبو القاسمثقة
👤←👥حدير بن كريب الحضرمي، أبو الزاهرية
Newحدير بن كريب الحضرمي ← كثير بن مرة الحضرمي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حدير بن كريب الحضرمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← قتيبة بن سعيد الثقفي
صحابي
👤←👥كثير بن مرة الحضرمي، أبو شجرة، أبو القاسم
Newكثير بن مرة الحضرمي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥حدير بن كريب الحضرمي، أبو الزاهرية
Newحدير بن كريب الحضرمي ← كثير بن مرة الحضرمي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← حدير بن كريب الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن إبراهيم المثرودي، أبو موسى
Newعيسى بن إبراهيم المثرودي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
666
أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان من وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 666 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 666
666۔ اردو حاشیہ:
جس نے صف کو ملایا۔ یعنی جو نماز کی صف میں حاضر ہوا، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہوا، اس میں کوئی خلا یا کجی پیدا نہ کی، تو اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعا ہے کہ اللہ اس کو اپنی رحمت خاص سے ملائے۔ اور جس نے صف کو کاٹا یعنی مذکورہ امور کے برعکس کیا تو اللہ اس کو اپنی رحمت سے محروم رکھے۔
بھائیوں کے لیے نرم ہونے۔ کے معنی یہ ہیں کہ صفیں درست کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ خوش دلی سے تعاون کیا جائے۔ آگے پیچھے ہونے کے معاملے میں وہ جو کہیں مان لیا جائے اور ناراض نہ ہوا جائے، نیز یہ معنی بھی ہیں کہ اگر صف میں جگہ ممکن ہو تو دوسرے ساتھی کو جگہ دی جائے، خیال رہے کہ جگہ نہ ہو تو اس میں گھسنے کی کوشش پہلے سے کھڑے ہوئے بھائیوں کو تنگ کرنا ہے جو کسی طرح روا نہیں۔
➌ امام کو تکبیر تحریمہ سے پہلے حسب ضرورت ان الفاظ سے نصیحت کرتے رہنا چائیے اور عملاً بھی صف درست کرانی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 666]

Sunan Abi Dawud Hadith 666 in Urdu