سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. باب من قال لا يقطع الصلاة شىء
باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ، قَالَ: مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ.
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 720]
جناب ابوالوداک بیان کرتے ہیں کہ قریش کا ایک نوجوان سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے آگے سے گزرنے لگا، جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے اس کو روکا۔ وہ پھر آیا، تو انہوں نے اسے روکا۔ تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ”نماز کو کوئی شے نہیں توڑتی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”(گزرنے والے کو) جہاں تک ہو سکے روکو، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو حدیثیں ایک دوسرے کے خلاف منقول ہوں تو دیکھا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا عمل اختیار کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3989) (ضعیف)» (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں)
وضاحت: ۱؎: یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی“ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی “۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (719)
انظر الحديث السابق (719)
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور جہاں تک ہو سکے گزرنے والے کو دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 719]
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور جہاں تک ممکن ہو (آگے سے گزرنے والی شے کو) ہٹاؤ، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3989) (ضعیف)» (اس کے راوی مجالد ضعیف ہیں، اور پہلا جزء صحیح احادیث کے مخالف ہے، ہاں دوسرے حصے کے صحیح شواہد ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (785)
أخرجه البيھقي (2/278) أبو أسامة صرح بالسماع عنده وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (1/367)
مشكوة المصابيح (785)
أخرجه البيھقي (2/278) أبو أسامة صرح بالسماع عنده وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (1/367)