سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب ما جاء في القراءة في الظهر
باب: ظہر کی قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 797
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ".
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً) سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 797]
جناب عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمیں سنایا، ہم تمہیں سنواتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہم سے مخفی رکھا ہم تم سے مخفی رکھتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (396)، (تحفة الأشراف: 14172)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 104 (772)، سنن النسائی/الافتتاح 54 (970)، مسند احمد (2/ 258، 273، 285، 301، 343، 348، 411، 416، 435، 487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں جہر نہیں کیا اسے آہستہ سے پڑھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (772) صحيح مسلم (396)
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 820]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ ”قراءتِ فاتحہ اور کچھ مزید کے بغیر نماز نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 13619) (صحیح)» (صحیح مسلم میں مروی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی جعفر بن میمون ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زَهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں“۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں!) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو: بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 821]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں ام القرآن (سورۃ فاتحہ) نہ پڑھے تو ایسی نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، کامل نہیں ہے۔“ (ابو سائب نے کہا) میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں۔“ تو انہوں نے میری کلائی دبائی اور کہا: ”اے فارسی! اسے اپنے نفس میں پڑھا کرو، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھے آدھ تقسیم کر دیا ہے، نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔““ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھا کرو۔ بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ﴿سورة الفاتحة: 2﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری تعریف کی۔“ بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ﴿سورة الفاتحة: 3﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی۔“ بندہ کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿سورة الفاتحة: 4﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔“ بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ﴿سورة الفاتحة: 5﴾ (اللہ عزوجل فرماتا ہے): ”یہ میرے اور بندے کے مابین ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔“ بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ﴿سورة الفاتحة: 6-7﴾ (اللہ عزوجل فرماتا ہے): ”سب میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 2 (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 11 (838)، (تحفة الأشراف: 14935، 14045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز سے مراد سورہ فاتحہ ہے، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔
۲؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورۃ فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہئے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
۲؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورۃ فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہئے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (395)
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا". قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ۱؎“۔ سفیان کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 822]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ فاتحہ اور کچھ مزید نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص اکیلا پڑھ رہا ہو (تو یہ حکم ہے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (394)، سنن النسائی/الافتتاح 24 (911) (وقد ورد بدون قولہ:’’فصاعداً‘‘ عند: صحیح البخاری/الأذان 95 (756)، سنن الترمذی/ الصلاة 69 (247)، 116 (312)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 11 (837)، (تحفة الأشراف: 5110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 321، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ سورہ فاتحہ سے کم پر نماز جائز نہیں ہو گی، سورہ فاتحہ سے زائد قرات کے وجوب کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ ۲؎: خطابی کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے بغیر کسی دلیل کے اس کی تخصیص جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله فصاعدا وعند م فصاعدا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (394)
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ، قُلْنَا: نَعَمْ، هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہو گئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟“، ہم نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 823]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع فرمائی مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھاری ہو گئی۔ (یعنی آپ اس میں رواں نہ رہ سکے) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ پڑھا کرو مگر فاتحہ، کیونکہ جو اسے (فاتحہ کو) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی الصلاة 115 (311)، (تحفة الأشراف: 5111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/313، 316، 322)، (حسن)» (ابن خزیمة نے اسے صحیح کہا ہے (3؍36- 37) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی حسن کہا ہے (2؍164) ابن حجر نے نتائج الافکار میں حسن کہا ہے)، ملاحظہ ہو: امام الکلام تالیف مولانا عبدالحی لکھنوی (277- 278)
وضاحت: ۱؎: جب اسے «هَذَّ يَهُذُّ» کا مصدر «هَذًّا» مانا جائے تو اس کے معنی پڑھنے والے کا ساتھ پکڑنے کے لئے جلدی جلدی پڑھنے کے ہوں گے، اور اگر «هذا» کو اسم اشارہ مانا جائے تو ترجمہ یوں کریں گے ”ایسا ہی ہے“۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (854)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/322)
مشكوة المصابيح (854)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/322)