سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
149. باب طول القيام من الركوع وبين السجدتين
باب: رکوع سے اٹھ کر کھڑے رہنے اور دونوں سجدوں کے بیچ میں بیٹھنے کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 854
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ، دخل حديث أحدهما في الآخر، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَمَقْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدْتُ" قِيَامَهُ كَرَكْعَتِهِ، وَسَجْدَتِهِ، وَاعْتِدَالَهُ فِي الرَّكْعَةِ كَسَجْدَتِهِ، وَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَسَجْدَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ:" فَرَكْعَتُهُ وَاعْتِدَالُهُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَجْدَتُهُ فَجِلْسَتُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتُهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (اور ابوکامل کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) حالت نماز میں بغور دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کو آپ کے رکوع اور سجدے کی طرح، اور رکوع سے آپ کے سیدھے ہونے کو آپ کے سجدے کی طرح، اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ کے بیٹھنے کو، اور سلام پھیرنے اور نمازیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنے کو، پھر دوسرے سجدہ سے قریب قریب برابر پایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مسدد کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع اور دونوں رکعتوں کے درمیان آپ کا اعتدال پھر آپ کا سجدہ پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور پھر دوسرا سجدہ پھر آپ کا سلام پھیرنے اور لوگوں کی طرف چہرہ کرنے کے درمیان بیٹھنا، یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 854]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بڑے غور سے دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام آپ کے رکوع اور سجدے کے برابر ہوتا تھا۔ اور آپ کا رکوع سے اعتدال (قومہ) آپ کے سجدے کے برابر ہوتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور سجدہ جو سلام اور پھرنے کے مابین ہوتا برابر ہوتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”مسدد نے روایت کیا کہ آپ کا رکوع، رکوع اور سجدے کے درمیان اعتدال (قیام، قومہ)، پھر آپ کا سجدہ پھر سلام اور پھرنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 852، (تحفة الأشراف: 1781) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (471)
وانظر الحديث السابق (852)
وانظر الحديث السابق (852)
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ سُجُودُهُ، وَرُكُوعُهُ، وَقُعُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب قریب قریب برابر ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 852]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا قریب قریب برابر ہوا کرتا تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 121 (792)، 127 (801)، 140 (820)، صحیح مسلم/الصلاة 38 (476)، سنن الترمذی/الصلاة 92 (279)، سنن النسائی/الافتتاح 114 (1066)، 49 (1149)، والسھو 77 (1333)، (تحفة الأشراف: 1781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/280، 285، 288، سنن الدارمی/الصلاة 80 (1372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (792) صحيح مسلم (471)