🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
153. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 872]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدہ اور رکوع میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ” «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ» ”میرا رب شراکت، ساجھے داری اور دیگر تمام نقائص و عیوب سے بالکل پاک ہے۔ فرشتوں کا رب ہے اور روح کا بھی۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 42 (487)، سنن النسائی/التطبیق 11 (1049)، 75 (1135)، (تحفة الأشراف: 17664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6 /35، 94، 115، 148، 149، 176، 192، 200، 244، 266) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (487)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: أَدْعُو فِي الصَّلَاةِ إِذَا مَرَرْتُ بِآيَةِ تَخَوُّفٍ، فَحَدَّثَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، وَفِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ".
شعبہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز میں خوف دلانے والی آیت سے گزروں تو کیا میں دعا مانگوں؟ تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، جسے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعید نے مستورد سے، مستورد نے صلہ بن زفر سے اور صلہ بن زفر نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے تھے، اور اپنے سجدوں میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے، اور رحمت کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں، اور اللہ سے سوال نہ کیا ہو، اور عذاب کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں اور عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 871]
جناب شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن مہران اعمش رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا میں نماز میں تخویف کی آیات پڑھتے وقت دعا کر لیا کروں؟“ تو انہوں نے مجھے بسند سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ بیان کیا کہ ”سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب نہایت عظمت والا“ اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب نہایت بلند“ پڑھتے تھے اور اثنائے قرأت میں جس کسی آیت رحمت سے گزرتے تو وہاں رکتے اور سوال کرتے اور جس کسی آیت عذاب سے گزرتے تو وہاں رکتے اور پناہ مانگتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن الترمذی/الصلاة 82 (262)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1007)، والتطبیق 74 (1134)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (897)، 179(1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/382، 384، 394، 397)، سنن الدارمی/الصلاة 69(1345) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (772)
مشكوة المصابيح (881)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» کہتے تھے اور قرآن کی آیت «فسبح بحمد ربك واستغفره» (سورة النصر: ۳) کی عملی تفسیر کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 877]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے رب! اور اپنی حمد کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا سے قرآنی تعلیم پر عمل فرماتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817) والمغازي 51 (4293)، وتفسیر سورة النصر 1 (4967)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن النسائی/التطبیق 10 (1048)، 64 (1123)، 65 (1124)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 20 (889)، (تحفة الأشراف: 17635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 49، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4968) صحيح مسلم (484)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ". زَادَ ابْنُ السَّرْحِ:" عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره» یعنی ”اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے“۔ ابن السرح نے اپنی روایت میں «علانيته وسره» کی زیادتی کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 878]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ابن سرح نے مزید یہ الفاظ بھی بیان کیے: «عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» ”اے اللہ! میرے سب ہی گناہ معاف فرما دے، چھوٹے، بڑے، پہلے، پچھلے اور جو ظاہر یا چھپے ہوئے ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 42 (483)، (تحفة الأشراف: 12566) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (483)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 885
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ" فَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا".
سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: «سبحان الله وبحمده» کہہ سکیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 885]
جناب سعید جریری، سعدی سے وہ اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نماز میں بڑے غور سے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں اتنی دیر رکتے تھے کہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» تین بار کہہ لیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/148، 161، 176، 253، 271، 5/6) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السعدي لا يعرف ولم يسم (تقريب التهذيب: 8499) وقال المنذري فيه : ’’ مجهول ‘‘
وأخرج ابن أبي شيبة (250/1) بإسناد صحيح عن الحسن البصري قال :’’ التام من السجود قدر سبع تسبيحات والمجزئ ثلاث ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں