سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
169. باب النظر في الصلاة
باب: نماز میں (ادھر ادھر) دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 914
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ:" شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ (ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 914]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر میں نماز پڑھی، اس میں کچھ نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کے نقوش الجھانے لگے تھے۔ اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور میرے پاس انبجانی چادر لے آؤ۔“ (یعنی جس میں نقش نہیں ہوتے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 14 (373)، والأذان 93 (752)، واللباس 19 (5817)، صحیح مسلم/المساجد 15 (556)، سنن النسائی/القبلة 20 (772)، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3550)، (تحفة الأشراف: 1634)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 18(67)، مسند احمد (6/37، 46، 177، 199، 208)، ویأتي ہذا الحدیث فی اللباس (4053) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (752) صحيح مسلم (556)
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَهْمٍ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَانِمٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا (یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 4052]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منقش اونی چادر میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس کے نقوش پر پڑی تو جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میری یہ منقش چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اس نے مجھے ابھی نماز کے دوران میں مشغول کر دیا تھا، میرے لیے سادہ (انبجانی چادر) چادر لے آؤ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوجہم بن حذیفہ، بنو عدی بن کعب بن غانم کے فرد تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 4052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (915)، (تحفة الأشراف: 16403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5817) صحيح مسلم (556)