سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
132. . باب : ما جاء فيمن شك في صلاته فرجع إلى اليقين
باب: نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ لِتَمَامِ صَلَاتِهِ، وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ رَغْمَ أَنْفِ الشَّيْطَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (571)، سنن ابی داود/الصلاة 197 (1024، 1027)، سنن النسائی/السہو 42 (1239، 1240) (تحفة الأشراف: 4163)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة16 (62)، مسند احمد (3/72، 83، 84، 87) سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1204
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقَالَ: أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 197 (1029)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (396)، (تحفة الأشراف: 4396)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (571)، سنن النسائی/السہو 24 (1240)، موطا امام مالک/الصلاة 16 (62)، مسند احمد (3/12، 37، 50، 51، 53، 54)، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے یہ اس لئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس کا مسئلہ معلوم ہو، اور اللہ تعالیٰ نے سہو کے تدارک میں دو سجدے مقرر کئے، کیونکہ بھول چوک شیطان کے وسوسہ سے ہوتی ہے، اور سجدہ کرنے سے شیطان بہت ناراض ہوتا ہے، تو اس میں یہ حکمت ہے کہ شیطان بھلانے سے باز آ جائے گا، جب دیکھے گا کہ میرے بھلانے کی وجہ سے بندے کو زیادہ ثواب ملا۔ اور سجدہ سہو سنت کے ترک سے بھی مشروع ہے، اسی طرح جب نماز میں زیادتی ہو جائے یا شک ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب امام سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی پیروی کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن