سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. . باب : ما جاء في إنما جعل الإمام ليؤتم به
باب: امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1239]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو، اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14988)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 82 (734)، تقصیر الصلاة 17 (1114)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (414)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (603)، مسند احمد (2/314، 230، 411، 438، 475)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی «ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ۱؎، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 846]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، چنانچہ جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو، جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو، اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھے تو آمین کہو، جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو، جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو کہو: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریفیں ہیں“ جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 69 (604)، سنن النسائی/الافتتاح 30 (922، 923)، (تحفة الأشراف: 12317)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 74 (722)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (144)، مسند احمد (2/376، 420)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1350)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 960، 1239) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
-
-