🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : فضل سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه
باب: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 129]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی صحابی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماں باپ قربان ہونے کے الفاظ نہیں سنے۔ صرف انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر فرمایا تھا: سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 80 (2905)، الأدب 103 (6184)، المغازي 18 (4058، 4059)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411)، سنن الترمذی/المناقب 27 (3755)، (تحفة الأشراف: 10190)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/92، 124، 137، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ:" لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 123]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ احد کے دن میرے لیے اپنے والدین کو جمع (ذکر) فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 13 (3720)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2416)، سنن الترمذی/المناقب 23 (3743)، (تحفة الأشراف: 3622)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/164، 166) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب خندق کا ہے، اس لئے احد کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎: یعنی کہا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 130]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کا نام لیا، یعنی یوں فرمایا: اے سعد! «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل أصحاب النبي ﷺ 15 (3725)، المغازي 18 (4055، 4056، 4057)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411، 2412)، سنن الترمذی/الأدب 61 (2830)، المناقب 27 (3754)، (تحفة الأشراف: 3857)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/174، 180) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں