سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
164. . باب : ما جاء في الحربة يوم العيد
باب: عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ، نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1305]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن یا کسی اور دن جب نماز ادا فرماتے تو آپ کے سامنے برچھی گاڑ دی جاتی۔ آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرماتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے۔“ امام نافع رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسی وجہ سے خلفاء رضی اللہ عنہم نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8078)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 92 (498)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (501)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (687)، سنن النسائی/القبلة 4 (748)، مسند احمد (2/13، 18، 142)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 941) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تُخْرَجُ لَهُ حَرْبَةٌ فِي السَّفَرِ فَيَنْصِبُهَا، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 941]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برچھی پیش کی جاتی تھی۔ آپ اسے (زمین میں) گاڑ کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7929)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 92 (430)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (502)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (686)، سنن النسائی/القبلة 4 (748)، مسند احمد (2/13، 18)، سنن الدارمی/الصلاة 126 (1452) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ الْعِيدِ، وَالْعَنَزَةُ تُحْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ الْمُصَلَّى نُصِبَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا"، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَاءً لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ يُسْتَتَرُ بِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1304]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن صبح کے وقت عید گاہ تشریف لے جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے برچھی لے جائی جاتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ پہنچتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برچھی گاڑ دی جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے سترہ بنایا جا سکے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 13 (972)، 14 (973)، (تحفة الأشراف: 7757)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (501)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (687)، سنن النسائی/العیدین 9 (1566)، مسند احمد (2/98، 145، 151)، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح