سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَكَذَلِكَ لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے“؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، فرمایا: ”اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 178]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جی نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12480)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 129 (806)، الرقاق 52 (6573)، التوحید 24 (4737)، صحیح مسلم/الإیمان 81 (183) الزھد 1 (2968)، سنن ابی داود/السنة 20 (4729)، سنن الترمذی/صفة الجنة 16 (2554)، سنن الدارمی/الرقاق 81 (2843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا" ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: ”عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو“۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے“ (سورة ق: 39) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 177]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: ”تم عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو، تمہیں اس کے دیدار میں مشقت نہیں ہوگی، لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے والی نمازوں کے بارے میں مغلوب نہ ہو جاؤ، تو ضرور ایسا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ﴾ [سورة ق: 39] ”سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کریں۔““ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 16 (554)، وتفسیر ق 2 (4851)، والتوحید 24 (7434)، صحیح مسلم/المساجد 37 (633)، سنن ابی داود/السنة 20 (4729)، سنن الترمذی/صفة الجنة 16 (2551)، سنن النسائی/الکبری/الصلاة 57 (460)، (تحفة الأشراف: 3223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362، 365) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اہل ایمان کے لئے جنت میں اللہ تعالیٰ کی رویت ثابت ہوتی ہے، نیز اللہ رب العزت کے لئے علو اور بلندی کی صفت کہ وہ سب سے اوپر آسمان کے اوپر ہے، نیز اس حدیث سے فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آیت کریمہ میں تسبیح سے مراد صلاۃ (نماز) ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ:" تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟“، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟“، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 179]
حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے جب کہ (آسمان پر) بادل بھی نہ ہو؟“ ہم نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جب کہ بادل بھی نہ ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اللہ کی زیارت میں اتنی ہی دشواری ہو گی جتنی سورج اور چاند دیکھنے میں ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو اور مومنین کے لئے اس کی رؤیت ثابت ہوتی ہے، اور اس میں جہمیہ اور معتزلہ دونوں کا ردو ابطال ہوا، جو اہل ایمان کے لئے اللہ تعالی کی رؤیت نیز اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور بلندی کی صفت کے منکر ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 4326]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ آدم علیہ السلام کے بیٹے کو کھا جائے گی، سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کا نشان کھانا حرام فرما دیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14215)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 129 (806)، الرقاق 52 (6573)، التوحید 26 (7437)، صحیح مسلم/الإیمان 81 (182)، مسند احمد (2/276، 293، 534، 3/94) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح