یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ:" تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟“، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟“، ہم نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 179]
حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے جب کہ (آسمان پر) بادل بھی نہ ہو؟“ ہم نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جب کہ بادل بھی نہ ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”جی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اللہ کی زیارت میں اتنی ہی دشواری ہو گی جتنی سورج اور چاند دیکھنے میں ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو اور مومنین کے لئے اس کی رؤیت ثابت ہوتی ہے، اور اس میں جہمیہ اور معتزلہ دونوں کا ردو ابطال ہوا، جو اہل ایمان کے لئے اللہ تعالی کی رؤیت نیز اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور بلندی کی صفت کے منکر ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4581
| نعم هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة ضوء ليس فيها سحاب قالوا لا قال وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر ضوء ليس فيها سحاب قالوا لا قال النبي ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم الق |
صحيح مسلم |
454
| هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب قالوا لا يا رسول الله قال ما تضارون في رؤية الله تبارك و يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن ليتبع كل |
سنن ابن ماجه |
179
| تضامون في رؤية الشمس في الظهيرة في غير سحاب قلنا لا قال فتضارون في رؤية القمر ليلة البدر في غير سحاب قالوا لا قال إنكم لا تضارون في رؤيته إلا كما تضارون في رؤيتهما |
Sunan Ibn Majah Hadith 179 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري