Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 100 (3543)، (تحفة الأشراف: 14139)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3194)، صحیح مسلم/التوبة 4 (2751)، مسند احمد (2/433)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 4295) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے پیر، ہاتھ اور انگلیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیر بھی ہیں، ہاتھ بھی ہیں، انگلیاں بھی ہیں، ان کے ہونے پر ہمارا کامل ایمان اور یقین بھی ہے، لیکن وہ کیسے ہیں؟ ان کی کیفیت کیا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی غرض ہے، بس اتنی سی بات کافی ہے کہ اس کی عظمت و جلالت کے مطابق اس کی انگلیاں ہوں گی، نہ تو اسے کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل دی جا سکتی ہے، اور نہ اللہ کے ہاتھ پاؤں اور اس کی انگلیوں کے لئے جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں انہیں اپنے اصلی اور حقیقی معنی سے ہٹایا جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں سے مراد اللہ کی رحمتیں ہیں، ایسا کہنا مناسب نہیں، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ «ید» (ہاتھ) «کف» (ہتھیلی) اور «انامل» (انگلیاں) جس معنی کے لئے موضوع ہیں بعینہ وہی معنی مراد لینا چاہئے، اس حدیث میں بھی صفات کے منکر فرقہ جہمیہ کا رد و ابطال ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے «ید» (ہاتھ) رحمت اور غضب کی صفات کا انکار کرتے ہیں جب کہ اس حدیث میں یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ , إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (رقم: 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں