🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ: مَا يُرْجَى مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
باب: روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4293
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ , قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلَائِقِ , فَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ , وَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ , وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا , وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً , يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4293]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں، جن میں سے ایک رحمت اس نے تمام مخلوقات میں تقسیم کی ہے، اسی (رحمت) کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، اسی کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں، اور اس نے نناوے رحمتیں رکھ چھوڑی ہیں، جن سے قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التوبة 4 (2752)، (تحفة الأشراف: 14183)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 19 (6000)، الرقاق 19 (6469) سنن الترمذی/الدعوات 100 (3541)، مسند احمد (2/434)، سنن الدارمی/الرقاق 69 (2827) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4294
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ , مِائَةَ رَحْمَةٍ , فَجَعَلَ فِي الْأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً , فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا , وَالْبَهَائِمُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ , وَالطَّيْرُ , وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ , أَكْمَلَهَا اللَّهُ بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4294]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تو سو رحمتیں بھی پیدا فرمائیں۔ ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی۔ اسی (رحمت) کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے اور حیوانات اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ اس (اللہ) نے نناوے رحمتوں کو قیامت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ تعالیٰ اس ایک رحمت کے ساتھ انہیں پوری (سو رحمتیں) کر دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4024، ومصباح الزجاجة: 1538)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/55) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ , إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4295]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ عز وجل نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے ہاتھ سے اپنے لیے یہ لکھ لیا (اپنے لیے یہ ضروری ٹھہرا لیا) میری رحمت میرے غضب پر غالب ہوگی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث (رقم: 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ , هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4296]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک گدھے پر سوار تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: معاذ! کیا تجھے معلوم ہے کہ بندوں کے ذمے اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ کے ذمے بندوں کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو (عبادت میں) شریک نہ کریں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جب وہ یہ کام کریں تو انہیں عذاب نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11346)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 46 (2856)، صحیح مسلم/الإیمان 10 (30)، سنن ابی داود/الجہاد 53 (2559)، سنن الترمذی/الإیمان 18 (2643)، مسند احمد (5/228، 230، 234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ , فَمَرَّ بِقَوْمٍ , فَقَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ" , فَقَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ , وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا , وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا , فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ , تَنَحَّتْ بِهِ , فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُمِّ بِوَلَدِهَا؟ قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: فَإِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ , فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ , الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ , وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4297]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم کسی غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں۔ ایک عورت تنور میں ایندھن ڈال (کر اسے دہکا) رہی تھی اور اس کے پاس اس کا بیٹا تھا، جب تنور کی (آگ کی) لپٹ اوپر آتی وہ بچے کو پیچھے کر لیتی، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! کیا اللہ تعالیٰ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں جس قدر ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا لیا اور رونے لگے، پھر سرِ مبارک اٹھا کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو عذاب نہیں دیتا، سوائے اس سرکش اور اڑیل کے جو اللہ سے سرکشی کرتا ہے اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہنے سے انکار کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7739، ومصباح الزجاجة: 1539) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں اسماعیل بن یحییٰ متہم بالکذب ہے، اور عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع
قال الإمام يزيد بن هارون : ” كان إسماعيل الشعري كذابًا “ (الضعفاء للعقيلي 96/1 وسنده صحيح )

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4298
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ مَعْصِيَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4298]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں تو بدنصیب ہی جائے گا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بدنصیب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی فرمانبرداری کا کوئی عمل نہیں کیا اور اللہ کی نافرمانی والا کوئی عمل نہیں چھوڑا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12974، ومصباح الزجاجة: 1540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن (تقدم:330)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4299
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ , حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَرَأَ أَوْ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 , فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى , فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ آخَرُ , فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ , فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ" , قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ رَبُّكُمْ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُشْرَكَ بِي غَيْرِي , وَأَنَا أَهْلٌ لِمَنِ اتَّقَى أَنْ يُشْرِكَ بِي أَنْ أَغْفِرَ لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» یعنی اللہ ہی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے (سورۃ المدثر: ۵۶) تلاوت فرمائی، اور فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، اور میرے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنایا جائے، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں دوسری سند اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» کے بارے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا: میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے، اور جو میرے ساتھ شریک کرنے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4299]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [سورة المدثر: 56] وہ اسی لائق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس لائق بھی کہ وہ بخشے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنایا جائے۔ جو شخص میرے ساتھ دوسرا معبود بنانے سے ڈر گیا تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 70 (3328)، (تحفة الأشراف: 434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/142، 243)، سنن الدارمی/الرقاق 16 (2766) (ضعیف) (سند میں سہیل بن عبد اللہ ضعیف ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+3328

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4300
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَاحُ بِرَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , فَيُنْشَرُ لَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلًّا , كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ , ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا , فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ , فَيَقُولُ: أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ , ثُمَّ يَقُولُ: أَلَكَ عُذْرًا؟ أَلَكَ عنْ ذَلِكَ حَسَنَةٌ؟ فَيُهَابُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا , فَيَقُولُ: بَلَى , إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَاتٍ , وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ , فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ , فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ , فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ , فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ" , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: الْبِطَاقَةُ الرُّقْعَةُ , وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ لِلرُّقْعَةِ: بِطَاقَةً.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہو گا، پھر اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میرے محافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ پھر فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے؟ وہ آدمی ڈر جائے گا، اور کہے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں، اور آج کے دن تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» لکھا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، وہ سارے دفتر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچہ بھاری ہو گا ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: «بطاقہ» پرچے کو کہتے ہیں، اہل مصر رقعہ کو «بطاقہ» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4300]
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے ایک امتی کو سب مخلوق کے سامنے پکار کر طلب کیا جائے گا، اس کے ننانوے رجسٹر کھول دیے جائیں گے، ہر رجسٹر اتنا ہوگا جہاں تک نگاہ پہنچے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو اس (تمام ریکارڈ) میں سے کسی چیز (کسی گناہ) کا انکار کرتا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں میرے مالک! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میرے (مقرر کیے ہوئے) محافظ کاتبوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے (کہ تیری نیکیاں نہ لکھی ہوں یا گناہ زیادہ لکھ دیے ہوں)؟ پھر فرمائے گا: کیا ان (گناہوں) کے علاوہ کوئی تیری نیکی بھی ہے؟ وہ شخص خوف زدہ ہو جائے گا اور کہے گا: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں! ہمارے پاس تیری نیکیاں بھی ہیں اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، چنانچہ اس (کے عمل) کا ایک (کاغذ کا چھوٹا سا) پرزہ لایا جائے گا، اس پر لکھا ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بندہ کہے گا: یا رب! ان رجسٹروں کے مقابلے میں یہ پرزہ کیا (حیثیت رکھتا) ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرزہ ایک پلڑے میں رکھا جائے گا، اور وہ تمام رجسٹر اوپر اٹھ جائیں گے اور وہ پرزہ بھاری ثابت ہوگا۔ (راویِ حدیث امام ابن ماجہ کے استاد) محمد بن یحییٰ نے کہا: (حدیث میں مذکور لفظ) «بِطَاقَة» سے مراد رقعہ ہے، مصر والے رقعہ کو «بِطَاقَة» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الایمان 17 (2639)، (تحفة الأشراف: 8855)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/213، 221) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث «‏‏‏‏حدیث بطاقہ» کے نام سے مشہور ہے، اور اس میں گنہگار مسلمانوں کے لئے بڑی امید ہے، شرط یہ ہے کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں