سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : لبن الفحل
باب: دودھ مرد کی طرف سے ہے۔
حدیث نمبر: 1948
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" تَرِبَتْ يَدَاكِ، أَوْ يَمِينُكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب (پردے) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور فرمایا: ”یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو“، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1948]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے رضاعی چچا حضرت افلح بن ابی قعیس رضی اللہ عنہ نے آ کر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، اس وقت پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ (میں نے واقعہ عرض کیا) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے چچا ہیں، انہیں اجازت دو۔“ میں نے کہا: ”مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو نہیں پلایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَرِبَتْ يَدَاكِ» ”تیرے ہاتھ کو مٹی لگے۔“ یا «تَرِبَتْ يَمِينُكِ» ”تیرے دائیں ہاتھ کو مٹی لگے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 1 (1444)، سنن النسائی/النکاح 52 (3319)، (تحفة الأشراف: 16443، 16926)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، تفسیر سورة السجدة 9 (4796)، النکاح 23 (5103)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/178) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر چند بچہ عورت کا دودھ پیتا ہے،مگر اس کا شوہر بچے کا باپ ہو جاتا ہے، کیونکہ عورت کا دودھ اسی مرد کی وجہ سے ہوتا ہے، اب اس مرد کا بھائی بچہ کا چچا ہو گا، اور نسبی چچا کی طرح وہ بھی محرم ہو گا۔
۲؎: جب کوئی شخص نادانی کی بات کہتا ہے تو یہ کلمہ اس موقعے پر اس پر افسوس کے اظہار کے لیے کہا جاتا ہے۔
۲؎: جب کوئی شخص نادانی کی بات کہتا ہے تو یہ کلمہ اس موقعے پر اس پر افسوس کے اظہار کے لیے کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1937
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الَحَجَّاجٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1937]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ (رشتہ) حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16369أ)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (6244) تفسیر سورة السجدة 9 (4792)، النکاح 22 (5103)، 117 (5239)، الأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن ابی داود/النکاح 8 (2057)، سنن الترمذی/الرضاع 2 (1147)، سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/194، 271)، سنن الدارمی/ النکاح 48 (2295) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسے ماں بہن وغیرہ، لیکن رضاعت میں چار عورتیں حرام نہیں ہیں جو نسب میں حرام ہیں: ۱- ایک تو اپنے بھائی کی رضاعی ماں جب کہ بھائی کی نسبی ماں حرام ہے، اس لئے کہ وہ یا تو اپنی بھی ماں ہوگی یا باپ کی بیوی ہوگی، اس لئے کہ وہ بہو ہوگی، اور دونوں محرم ہیں، ۲- دوسرے پوتے یا نواسے کی رضاعی ماں جب کہ پوتے یا نواسے کی نسبی ماں حرام ہوگی اس لئے کہ وہ بہو ہوگی یا بیٹی،۳- تیسری اپنی اولاد کی رضاعی نانی یا دادی جب کہ اولاد کی نسبی نانی یا دادی حرام ہے، کیونکہ وہ اپنی ساس ہوگی یا ماں،۴- چوتھی اپنی اولاد کی رضاعی بہن جب کہ نسبی بہن اپنی اولاد کی حرام ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹی ہوگی یا ربیبہ، اور بعض علماء نے مزید کچھ عورتوں کو بیان کیا ہے جو رضاع میں حرام نہیں ہیں جیسے چچا کی رضاعی ماں یا پھوپھی کی رضاعی ماں یا ماموں کی رضاعی ماں یا خالہ کی رضاعی ماں، مگر نسب میں یہ سب حرام ہیں، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو رشتہ محرمات کی اس آیت میں مذکور ہے{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ } [سورة النساء: 23] تک، وہ سب رضاع کی وجہ سے بھی محرم ہوجاتی ہیں،اور جن عورتوں کا اوپر بیان ہوا وہ اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1949
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو“، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں!، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1949]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے رضاعی چچا نے آکر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ (معلوم ہونے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے چچا کو تیرے پاس (گھر میں) آنا چاہیے۔“ میں نے کہا: ”مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے چچا ہیں، انہیں تیرے پاس آنا چاہیے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 1 (1445)، سنن الترمذی/الرضاع 2 (1148)، (تحفة الأشراف: 16982) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم