سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ
باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے اللہ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، اور میرا علم زیادہ کر دے، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 251]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”اے اللہ! تو مجھے جو علم نصیب فرمائے اس سے مجھے فائدہ پہنچا اور مجھے وہ علم دے جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اور ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے۔“” [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات129 (3599)، (تحفة الأشراف: 14356)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3833) (صحیح)» ( «الحمد لله على كل حال» کا جملہ ثابت نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: 462)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الحمد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3599) وانظر الحديث الآتي (3833)
ورواية المستدرك (1/ 510 ح 1879،سنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
إسناده ضعيف
ترمذي (3599) وانظر الحديث الآتي (3833)
ورواية المستدرك (1/ 510 ح 1879،سنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
حدیث نمبر: 3804
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ , يَقُولُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ , رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: ” «الحمد لله على كل حال رب أعوذ بك من حال أهل النار» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے میرے رب! میں جہنمیوں کے حال سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3804]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» ”ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ اے رب! میں اہل جہنم کے حال سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14357، ومصباح الزجاجة: 1330) (ضعیف)» (موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، اور محمد بن ثابت مجہول)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف مشهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف مشهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512
حدیث نمبر: 3833
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي , وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي , وَزِدْنِي عِلْمًا , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ , وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار» ”اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3833]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اَللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! تو نے مجھے جو علم دیا ہے اس سے مجھے فائدہ دے، اور مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے اور میں آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ کا طالب ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 129 (3599)، (تحفة الأشراف: 14356) (صحیح)» (آخری فقرہ «والحمد للہ......» کے علاوہ حدیث صحیح ہے، اور یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 251، سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون والحمد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513