🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3833
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي , وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي , وَزِدْنِي عِلْمًا , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ , وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار» اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3833]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اَللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» اے اللہ! تو نے مجھے جو علم دیا ہے اس سے مجھے فائدہ دے، اور مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے اور میں آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ کا طالب ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 129 (3599)، (تحفة الأشراف: 14356) (صحیح)» ‏‏‏‏ (آخری فقرہ «والحمد للہ......» ‏‏‏‏ کے علاوہ حدیث صحیح ہے، اور یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 251، سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون والحمد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن ثابت
Newمحمد بن ثابت ← أبو هريرة الدوسي
مجهول
👤←👥موسى بن عبيدة الربذي، أبو عبد العزيز
Newموسى بن عبيدة الربذي ← محمد بن ثابت
منكر الحديث
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← موسى بن عبيدة الربذي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3599
اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار
سنن ابن ماجه
3833
اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار
سنن ابن ماجه
3804
الحمد لله على كل حال رب أعوذ بك من حال أهل النار
سنن ابن ماجه
251
اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3833 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3833
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 یہ حدیث مقدمہ کے باب 23 میں گزر چکی ہے۔ (دیکھئے حدیث: 251۔)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3833]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث251
علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، اور میرا علم زیادہ کر دے، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 251]
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد مستدرک حاکم میں ہیں لیکن ان کی صحت و ضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا، جبکہ شیخ البانی رحمة اللہ علیہ نے اس روایت کو مذکور لفظ (وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ)
کے علاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیےدیکھیے: (المشكاة، التحقيق الثاني للالباني، حديث: 3493)

(2)
اس میں علم نافع کے حصول کی درخواست کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی ہے کہ جو علم پہلے حاصل ہو چکا ہے، اللہ اسے بھی نفع بخش بنا دے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 251]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3599
دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» اے اللہ! مجھے اس علم سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے فائدہ دے اور میرا علم زیادہ کر، ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تعریف ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3599]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! مجھے اس علم سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے فائدہ دے اور میرا علم زیادہ کر،
ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تعریف ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

نوٹ:
(الحمد للہ۔
۔
۔
الخ) کا لفظ صحیح نہیں ہے،
سند میں محمد بن ثابت مجہول راوی ہے،
مگر پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے،
نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: 462)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3599]

Sunan Ibn Majah Hadith 3833 in Urdu