Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : حد القذف
باب: حد قذف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2567
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ، وَتَلَا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الحدود 35 (4474، 4475)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن، سورة النور25 (3181)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/35، 61) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اگرچہ بہتان باندھنے میں سب سے بڑھ چڑھ کر منافقین نے حصہ لیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حد جاری نہیں کی، اس لئے کہ حد پاک کرنے کے لئے ہے، اور منافقین پاک نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، مسند احمد (6/117، 151، 197، 269)، سنن الدارمی/الجہاد 31 (2467) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: «تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء» (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، المغازي 34 (4141)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، التوبة 10 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/151، 197، 269)، سنن الدارمی/النکاح 26 (2245)، الجہاد 31 (2467)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 1970) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں