🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : صيد المعراض
باب: ہتھیار کی چوڑان سے کیے ہوئے شکار کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3214
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض (چوڑان) سے مرے وہ مردار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3214]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْمِعْرَاضِ» سے کیے ہوئے شکار کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کی نوک سے مرے، وہ کھا لے، اور جو اس کے چوڑائی کے رخ لگنے سے مرے، اسے نہ کھا، کیونکہ وہ چوٹ سے مرا ہوا جانور ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 1 (5475)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید 7 (1471)، (تحفة الأشراف: 9860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 379، سنن الدارمی/الصید 1 (2045) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3208
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ، مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ إِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ، إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ أُخَرُ فَلَا تَأْكُلْ" قَالَ ابْن مَاجَةَ: سَمِعْتُهُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ الْمُنْذِرِ، يَقُولُ: حَجَجْتُ ثَمَانِيَةً وَخَمْسِينَ حِجَّةً أَكْثَرُهَا رَاجِلٌ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو «بسم الله» کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3208]
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: ہم لوگ ان کتوں کے ذریعے سے شکار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑے اور ان پر اللہ کا نام لے تو اگر وہ (شکار کو) قتل کر دیں تو جس (شکار کیے ہوئے جانور) کو وہ تمہارے لیے بچا رکھیں، اسے تو کھا سکتا ہے، سوائے اس کے کہ کتے نے (اس میں سے کچھ) کھایا ہو۔ اگر کتے نے کھایا ہو، تب تو نہ کھا کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہوگا۔ اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہوں تو پھر تو نہ کھا۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد علی بن منذر سے سنا، انہوں نے فرمایا: میں نے اٹھاون حج کیے ہیں جن میں سے اکثر میں پیدل سفر کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضو 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 1 (5475)، 2 (5476)، 3 (5477)، 7 (5483)، 9 (5484)، 10 (5485)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2848)، (تحفة الأشراف: 9855)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید 1 (1456)، سنن النسائی/الصید 2 (4269)، مسند احمد (4/256، 257، 258، 377، 379، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2045) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (۱) سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، (۲) کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (۳) اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بغیر بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے، یہی جمہور علماء کا قول ہے، (۴) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت «بسم الله» کہا گیا ہو، (۵) معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا، اور یہ شکار حلال نہ ہو گا، (۶) کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے، تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3212
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ، وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَا خَزَقْتَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ (شکار کے جسم میں) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3212]
حضرت عدی بن حاتم (طائی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر چلاتے ہیں (شکار کے عادی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو تیر چلا کر پھاڑ ڈالے تو جسے تو نے پھاڑا ہے، اسے کھالے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد ابن ماجة بھذاالسیاق (تحفة الأشراف: 9868، ومصباح الزجاجة: 1104)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 3 (2054)، الذبائح 3 (5477)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2847)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، 3 (1467)، سنن النسائی/الصید 3 (4270)، مسند احمد (4، 256، 258، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2046) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3215
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ:" لَا تَأْكُلْ إِلَّا أَنْ يَخْزِقَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شکار میں تیر پیوست ہوا ہو صرف اسی کو کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3215]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کھا، سوائے اس کے کہ وہ پھاڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 3 (5477)، التوحید 13 (7397)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید ا (1465)، سنن النسائی/الصید 3 (4270)، (تحفة الأشراف: 9878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 258، 377، 380) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں