🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : الرخصة في ذلك في الكنف وإباحته دون الصحارى
باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ:" أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16331، ومصباح الزجاجة: 132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 127، 137، 183، 219، 227، 239) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں خالد بن ابوصلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کا سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن أبي الصلت: مقبول (تقريب: 1643) أي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا"، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8251، ومصباح الزجاجة: 130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97، 99، 114) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
عيسي بن أبي عيسي الحناط: متروك (تقريب: 5317)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں