سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : صفة النبيذ وشربه
باب: نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3398
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , حَدَّثَتْنَا بُنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ , فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ , ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ , فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً , وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً" , وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا , أَوْ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: ”دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17824)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3711)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، مسند احمد (6/46، 124) (صحیح)» (سند میں نبانة بنت یزید غیر معروف ہیں، لیکن یہ حدیث ابن عباس کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بنانة (أوتبالة) لا تعرف (تقريب: 8545)
و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (3706،3707) و غيره
و حديث مسلم (2005) و أبي داود (3711) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
إسناده ضعيف
بنانة (أوتبالة) لا تعرف (تقريب: 8545)
و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (3706،3707) و غيره
و حديث مسلم (2005) و أبي داود (3711) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَصنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً: إِنَاءً لِطَهُورِهِ , وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ , وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16237، ومصباح الزجاجة: 1182) (ضعیف)» (حریش بن خریت ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
ضعيف
انظر الحديث السابق (361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499