🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : المزاح
باب: مزاح (ہنسی مذاق) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3720
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا , حَتَّى يَقُول لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ , مَا فَعَلَ النُّغَيْ؟" , قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: «يا أبا عمير ما فعل النغير» اے ابوعمیر! تمہارا وہ «نغیر» (پرندہ) کیا ہوا؟ وکیع نے کہا «نغیر» سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3720]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بے تکلفی کا اظہار فرماتے تھے حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: اے ابو عمیر! «نُغَيْرُ» کا کیا بنا؟ امام وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «نُغَيْرُ» ایک پرندہ تھا جس سے وہ بچہ کھیلتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 81 (6129)، صحیح مسلم/الآداب 5 (2150)، سنن ابی داود/الصلاة 92 (658)، سنن الترمذی/الصلاة 131 (333)، (تحفة الأشراف: 1692)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 171، 190، 212، 270) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ,، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَأْتِينَا فَيَقُولُ لِأَخٍ لِي وَكَانَ صَغِيرًا:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ابوعمیر کہہ کر پکارتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3740]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے اور میرے ایک بھائی سے، جو کم سن تھا، فرمایا کرتے تھے: «يَا أَبَا عُمَيْرُ» اے ابو عمیر! [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظرحدیث رقم: 3720، (تحفة الأشراف: 1692) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: انہوں نے ہی «نغیر» نامی چڑیا پا لی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل لگی کے طور پر اس سے پوچھا کرتے اسے ابو عمیر «نغیر» چڑیا تمہاری کہاں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں