سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: الرَّجُلِ يُكَنَّى قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لَهُ
باب: اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ , أَنَّ عُمَرَ , قَالَ لِصُهَيْبٍ : مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ؟ قَالَ:" كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَحْيَى".
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3738]
حضرت حمزہ بن صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ نے اپنی کنیت «أَبُو يَحْيَىٰ» ”ابو یحییٰ“ کیوں رکھی ہے، حالانکہ آپ کی اولاد نہیں ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَبُو يَحْيَىٰ» ”ابو یحییٰ“ رکھی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4959، ومصباح الزجاجة: 1307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/16) (حسن)» (سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے ابوداود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 33)
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (4/ 333،6/ 16) والحاكم (3 /398) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (4/ 333،6/ 16) والحاكم (3 /398) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
حدیث نمبر: 3739
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ مَوْلًى لِلزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ أَزْوَاجِكَ كَنَّيْتَهُ غَيْرِي , قَالَ:" فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «ام عبداللہ» ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3739]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”آپ نے میرے سوا اپنی تمام ازواجِ مطہرات کی کنیت رکھی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ» ”ام عبداللہ“ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17817)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 78 (4970) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ,، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَأْتِينَا فَيَقُولُ لِأَخٍ لِي وَكَانَ صَغِيرًا:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ”ابوعمیر“ کہہ کر پکارتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3740]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے اور میرے ایک بھائی سے، جو کم سن تھا، فرمایا کرتے تھے: «يَا أَبَا عُمَيْرُ» ”اے ابو عمیر!““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظرحدیث رقم: 3720، (تحفة الأشراف: 1692) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: انہوں نے ہی «نغیر» نامی چڑیا پا لی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل لگی کے طور پر اس سے پوچھا کرتے اسے ابو عمیر «نغیر» چڑیا تمہاری کہاں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه