سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا , فَقَالَ لَهَا:" مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكِ" , فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ , فَقَالَ:" الَّذِي سَأَلْتِ أَحَبُّ إِلَيْكِ أَوْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟" , فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: قُولِي: لَا , بَلْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ , فَقَالَتْ: فَقَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ , وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ , وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں“، (یہ سن کر) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں“؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہا کرو «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر» اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب! اور ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، تورات، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے تیرے ورے کوئی چیز نہیں، ہم سے ہمارا قرض ادا کر دے، اور محتاجی دور کر کے ہمیں غنی کر دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3831]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک خادمہ عطا فرمانے کی درخواست کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے پاس تو (غلام یا لونڈی) نہیں ہے جو تجھے دے سکوں۔“ وہ واپس چلی گئیں۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کیا تجھے وہ چیز پسند ہے جو تو نے مانگی تھی یا وہ جو اس سے بہتر ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کہو: نہیں، وہ چیز (مطلوب ہے) جو اس سے بہتر ہے۔“ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی جواب دے دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کر: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے مالک! اے عرش عظیم کے مالک! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! اے تورات، انجیل اور قرآن عظیم کے نازل کرنے والے! تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ تو آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں۔ تو باطن (پوشیدہ) ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کچھ نہیں۔ ہمارا قرض ادا فرما اور فقر سے (نجات دے کر) ہمیں غنی کردے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکروالدعاء 17 (2713)، (تحفة الأشراف: 12499)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 107 (5051)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ:" اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ , وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» ”اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے مالک! اور ہر چیز کے مالک! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! اے تورات، انجیل اور قرآنِ عظیم کو نازل فرمانے والے! میں ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں۔ تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں۔ تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی چیز نہیں۔ مجھ سے میرا قرض ادا کر دے اور مجھے فقر سے (نجات دے کر) غنی کر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12733)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5051)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، مسند احمد (2/381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم