🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. باب : من قال لا ينام الجنب حتى يتوضأ وضوءه للصلاة
باب: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 586
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 586]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رات کو جنبی ہو جاتے تھے، پھر سونا چاہتے تھے، تو (مسئلہ پوچھنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر لیں، پھر سو جائیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4101، ومصباح الزجاجة: 232)، مسند احمد (2/75، 3/55) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 606]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس گئے اور اسے بلوایا۔ وہ (گھر سے) نکلا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جب تجھے (کسی وجہ سے) جلدی پڑ جائے (اور تجھے فارغ ہونے سے پہلے پیچھے ہٹنا پڑے) یا تجھے انزال نہ ہو تو تجھ پر غسل فرض نہیں، صرف وضو کرنا ضروری ہے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 34 (180)، صحیح مسلم/الحیض21 (345)، (تحفة الأشراف: 3999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/21، 26، 94) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح منسوخ
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں