🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : القراءة خلف الإمام
باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ، فَقَالَ:" سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہو گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 842]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ایک شخص نے سوال کیا: کیا میں اس وقت بھی قراءت کیا کروں جب امام قراءت کر رہا ہو؟ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یہ تو واجب ہوگئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10944، ومصباح الزجاجة: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 31 (924)، مسند احمد (1/448) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معاوية بن يحيي الصدفي أبو روح: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ، فإِنَّ َقِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 850]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قراءت اسی کی قراءت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2675، ومصباح الزجاجة: 310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/339) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں جابر الجعفی ضعیف بلکہ متہم بالکذب راوی ہے، اس لئے علماء کی اکثریت نے اس حدیث کی تضعیف فرمائی ہے، شیخ البانی نے شواہد کی بناء پراس کی تحسین کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 850، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: و فتح الباری: 2/242 وسنن الترمذی بتحقیق احمد شاکر 2/121-126، و سنن الدار قطنی: 1/323- 333)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں: «له طرق أخرى كلها واهية» یعنی اس حدیث کے تمام کے تمام طرق واہی ہیں، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: «طرق كلها معلولة» یعنی اس کے تمام طرق معلول ہیں، امام بخاری «جزء قراءت» میں فرماتے ہیں: «هذا خبر لم يثبت عند أهل العلم من أهل الحجاز وأهل العراق وغيرهم لإرساله و انقطاعه» یعنی یہ حدیث حجاز و عراق وغیرہ کے اہل علم کے نزدیک بسبب مرسل اور منقطع ہونے کے ثابت نہیں، اور اگر ثابت مان بھی لیا جائے، تو اس کا معنی یہ ہے کہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھے کچھ اور پڑھنے کی ضرورت نہیں، فاتحہ کافی ہے تاکہ اس کا معنی دوسری احادیث کے مطابق ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قال البو صيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،جابر هو ابن يزيد الجعفي متھم ‘‘ جابر الجعفي ضعيف رافضي
وأبو الزبير عنعن
وللحديث شواهد كلھا ضعيفة۔
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں