🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ : مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: رَجُلٌ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْخَيْلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْإِبِلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْغَنَمِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الرَّقِيقِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، وَطَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 879]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ (اس اثنا میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دنیوی) خوش قسمتی (اور مال و دولت) کا ذکر کیا گیا۔ ایک نے کہا: فلاں گھوڑوں کے لحاظ سے بڑا خوش نصیب ہے۔ (بہت سے گھوڑے اس کی دولت ہیں) دوسرے نے کہا: فلاں کی خوش قسمتی اونٹوں سے ہے۔ ایک اور بولا: فلاں کی اچھی قسمت بکریوں سے ہے۔ ایک اور بولا: فلاں لونڈی اور غلاموں کے لحاظ سے بڑا خوش بخت ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، اور آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے (سب) تعریف ہے۔ آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے، اس کے بھرنے کے برابر۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمائے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو روک لے (اور نہ دینا چاہے) وہ چیز کوئی دے نہیں سکتا اور کسی (دنیوی) قسمت (اور مال و دولت) والے کی (ظاہری) خوش قسمتی (اور دولت) اسے تجھ سے (بچانے میں) کام نہیں آ سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری جملہ «وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» فرماتے وقت آواز کو طول دیا تاکہ ان (صحابہ) کو معلوم ہو جائے کہ حقیقت وہ نہیں جو وہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11820، ومصباح الزجاجة: 325) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو مجہول ہیں، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث میں مذکور دعاء «اللهم ربنا» صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح مسلم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، ومصباح الزجاجة)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو عمر لا يعرف حاله‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 878]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو فرماتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اللہ نے سن لی جس نے بھی اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے (سب) تعریفیں ہیں، آسمانوں اور زمین کے بھراؤ کے برابر اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو اس کے بعد چاہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة40 (476)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (846)، (تحفة الأشراف: 5173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 354، 356، 381) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں