سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : ما يقول في قيامه ذلك
باب: رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قیام میں کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّي اغْفِرْ لِي رَبِّي اغْفِرْ لِي وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا: «اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ”اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے“، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، ”شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے“ کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» ”اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما“ کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1070]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: «اللهُ أَكْبَرُ ذُو الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اے عظیم الشان غلبے اور بادشاہی والے! (بے انتہا) بزرگی (بڑائی) اور عظمت کے مالک!۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں فرماتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا عظمت والا رب۔“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ”میرے رب ہی کے لیے ہے سب تعریف۔ میرے رب ہی کے لیے ہے سب تعریف۔“ اور اپنے سجدے میں فرماتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» ”پاک ہے میرا بزرگ و برتر رب۔“ اور دو سجدوں کے درمیان فرماتے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔ اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، رکوع، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قومہ، سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان وقفہ (جلسۂ استراحت) تقریباً برابر تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (260)، (تحفة الأشراف: 3395)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، من قولہ: ’’کان یقول بین السجدتین‘‘ ویأتی عند المؤلف برقم: 1146 (صحیح) (سند میں ’’رجل‘‘ جو مبہم راوی ہے بقول شعبہ ’’صلہ بن زفر‘‘ ہے، نیز کئی اس کے متابعات بھی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1009
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ" أَنَّهُ صَلَّى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ وَقَفَ وَتَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ وَقَفَ فَدَعَا وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، تو آپ نے قرأت کی، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے، اور پناہ مانگتے، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ۱؎، اور رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1009]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی تو جب عذاب والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ کی پناہ مانگتے، اور جب رحمت والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگتے، اور اپنے رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا عظمت والا رب۔“ اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» ”پاک ہے میرا بلند و بالا رب۔“ پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (871)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262، 263)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، 179 (1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، مسند احمد 5/382، 384، 389، 394، 397، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1047، 1134، 1665، 1666 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «صلى إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم» سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تہجد کی نماز تھی، اسی لیے علماء نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ خاص قرار دیا ہے شیخ عبدالحق لمعات میں لکھتے ہیں: «وهو محمول عندنا على النوافل» یعنی یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1010
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ فِي رَكْعَةٍ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا اسْتَجَارَ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں: بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) رحمت کی درخواست کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو (عذاب سے) اللہ کی پناہ مانگتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1010]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگتے اور عذاب کی آیت پر پہنچتے تو بچاؤ کا سوال فرماتے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «ویأتي عند المؤلف برقم: 1666، (تحفة الأشراف: 3351، 3358) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي النَّسَائِيَّ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قال: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:" قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز کے لیے) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ”میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں“ پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1050]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز میں کھڑا ہوا۔ جب آپ نے رکوع فرمایا تو سورۂ بقرہ کے بقدر رکوع میں ٹھہرے رہے اور پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”پاک ہے عظیم الشان غلبے اور بڑی بادشاہت والا اور بے انتہا بزرگی (بڑائی) اور عظمت والا رب۔“” [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 151 (873) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 42 (296)، (تحفة الأشراف: 10912)، مسند احمد 6/24، ویأتی عند المؤلف برقم: 1133 مطولاً (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1133
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ يَقُولُ:" فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً ثُمَّ سُورَةً فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، آپ نے اسی طرح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1133]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لیے اٹھا، آپ نے سب سے پہلے مسواک فرمائی اور وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع فرمائی، (سورۂ فاتحہ کے بعد) آپ نے سورة البقرة شروع کی، آپ جب بھی کوئی رحمت والی آیت پڑھتے تو رکتے اور رحمت کا سوال فرماتے اور عذاب کی آیت پڑھتے تو رکتے اور عذاب سے پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور اپنے قیام کے برابر رکوع میں ٹھہرے، آپ رکوع میں یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”پاک ہے عظیم قوت، بادشاہی، بزرگی والا اور عظمت کا مالک۔“ پھر آپ نے رکوع کے برابر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں بھی یہی پڑھتے رہے: ”پاک ہے عظیم الشان قوت، بے مثال بادشاہی، بے انتہا بزرگی اور عظمت کا مالک۔“ پھر دوسری رکعت میں آپ نے سورة آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورت، پھر ایک اور سورت اور اس (رکعت) میں بھی آپ نے (رکوع و سجود) ایسے ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1050 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1146
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَقَالَ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَقَالَ: حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہو گئے، آپ نے «اللہ أكبر ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہا، پھر آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ نے رکوع میں: «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو: «لربي الحمد لربي الحمد» کہا، اور آپ اپنے سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1146]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے) اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلو میں کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، وہ بادشاہی، عظیم الشان قوت، بے انتہا بزرگی اور عظمت کا مالک ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ فاتحہ کے بعد) سورۂ بقرہ تلاوت فرمائی۔ پھر رکوع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع تقریباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے برابر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں (بار بار) پڑھا: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو (سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد) فرمایا: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ”میرے رب کے لیے ہی سب تعریفیں ہیں، میرے رب کے لیے ہی سب تعریفیں ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان پڑھتے رہے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے معاف فرما دے، اے میرے رب! مجھے معاف فرما دے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1070 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1665
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ , فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى , فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ , فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور « سبحان ربي العظيم» ”پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے“ کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» ”پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے“ پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1665]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رات کی نفل) نماز پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرہ شروع کی۔ میں نے سوچا کہ آپ سو آیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے بڑھ گئے۔ میں نے سوچا کہ آپ دو سو آیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے گزر گئے۔ میں نے سوچا، پوری سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے لیکن آپ پڑھتے گئے اور سورۂ نساء شروع کر دی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر آل عمران شروع کر دی اور ختم کر ڈالی۔ پڑھتے بھی ٹھہر ٹھہر کر تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر آتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو تسبیح پڑھتے اور جب کوئی سوال والی آیت پڑھتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے وہ چیز مانگتے اور جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں پناہ والی چیز کا ذکر ہوتا ہے تو اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے، پھر رکوع فرمایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ آپ کا یہ قومہ بھی تقریباً رکوع کے برابر تھا، پھر سجدہ فرمایا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے“ پڑھتے رہے تو آپ کا سجدہ آپ کے رکوع کے قریب تھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1009 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم