سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب : نوع آخر
باب: سجدے کی ایک اور دعا۔
حدیث نمبر: 1131
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنَتْ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کر سکتا، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1131]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر پر) نہ پایا۔ (تلاش کیا) تو آپ سجدے کی حالت میں ملے اور آپ کی انگلیاں قبلے کی طرف مڑی ہوئی تھیں۔ میں نے سنا، آپ فرما رہے تھے: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”(اے اللہ!) میں تیرے غصے سے (بچنے کے لیے) تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور تیری سزا سے (بچنے کے لیے) تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ اور تجھ سے (تیرے عذاب سے بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پوری تعریف نہیں کرسکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 76 (3493)، (تحفة الأشراف: 17585)، موطا امام مالک/القرآن 8 (31) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 169
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 169]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ نہ پایا تو میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، چنانچہ میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کو لگا جو سیدھے کھڑے تھے، جبکہ آپ سجدے میں تھے اور پڑھ رہے تھے: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَىٰ نَفْسِكَ» ”(اے اللہ!) میں تیرے غصے سے (بچنے کے لیے) تیری رضا مندی اور تیری سزا سے (بچنے کے لیے) تیری معافی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ اور تیرے غضب سے (بچنے کے لیے) تیری رحمت کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پوری تعریف نہیں کرسکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن ابی داود/فیہ 152 (879)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3841)، (تحفة الأشراف: 17807)، موطا امام مالک/القرآن 8 (31)، (وفیہ انقطاع)، مسند احمد 6/58، 201، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1101، 1131، 5536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1101
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پہ نہیں ملے تو میں تلاش کرتی ہوئی آپ تک پہنچی، آپ سجدے میں تھے، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے، اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وبك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا اور عقوبت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1101]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا، (میں نے ٹٹولنا شروع کیا) میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے (بچنے کے لیے) تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے (بچنے کے لیے) تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ (تیرے عذاب) سے (بچنے کے لیے) تیری (رحمت کی) پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پوری تعریف نہیں کرسکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 169، (تحفة الأشراف: 17807) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , وَهِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1748]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر نماز کے آخر میں یہ الفاظ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے تیری رضامندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی اور عافیت کی پناہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے ڈرتے ہوئے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری مکمل تعریف نہیں کر سکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 340 (1427)، سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 117 (1179)، (تحفة الأشراف: 10207)، مسند احمد 1/96، 118، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5536
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي فِرَاشِي، فَلَمْ أُصِبْهُ , فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى رَأْسِ الْفِرَاشِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر ڈھونڈا تو آپ کو نہیں پایا، چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے پر پھیرا تو وہ آپ کے قدموں کے تلوے سے جا لگا، دیکھا تو آپ سجدے میں تھے، اور فرما رہے تھے: «أعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك» ”میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے غصے اور ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 5536]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر تلاش کیا لیکن آپ مجھے نہ ملے۔ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے کی جانب مارا تو میرا ہاتھ آپ کے مبارک پاؤں کے تلووں پر لگا۔ آپ سجدے کی حالت میں تھے اور فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ» ”(اے اللہ!) میں تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیری ناراضی سے بچنے کے لیے تیری رضا مندی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ اور تجھ سے (تیرے عذاب سے بچنے کے لیے) تیری پناہ لیتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 5536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17632) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن