سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب : كيف السلام على اليمين
باب: داہنی طرف سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1321
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ , اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَسَارِهِ".
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے تو «اللہ أكبر» کہتے، اور جب اٹھتے تو «اللہ أكبر» کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
حضرت واسع بن حبان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ جب جھکتے تھے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے اور جب سر اٹھاتے تھے، تب بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے۔ پھر (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت“ اور بائیں طرف منہ کرکے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8553)، مسند احمد 2/72، 152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1185
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ , فَقَالَ:" مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ , اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا (اٹھا کر سلام کر) رہے تھے ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1185]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نماز (کے اختتام پر سلام) میں ہاتھ اٹھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا ہے کہ نماز میں ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ نماز میں سکون اختیار کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 27 (430)، سنن ابی داود/الصلاة 167 (912)، 189 (1000)، (تحفة الأشراف: 2128)، مسند احمد 5/86، 88، 93، 101، 102، 107 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ اگلی روایت میں «فنسلم بأیدینا» کے الفاظ آ رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1186
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا , فَقَالَ:" مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟ أَمَا يَكْفِي أَحَدُهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يَقُولَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر «السلام عليكم، السلام عليكم» کہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1186]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہاتھوں سے سلام کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا ہے کہ ہاتھوں سے سلام کر رہے ہیں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں؟ کیا انہیں کافی نہیں کہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے رہیں اور (زبان سے) کہہ دیں: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» “ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ صحیح مسلم/الصلاة 27 (431)، سنن ابی داود/الصلاة 189 (998، 999)، مسند احمد 5/86، 88، 102، 107، (تحفة الأشراف: 2207)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1319، 1327 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1319
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ , فَقَالَ:" مَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ أَمَا يَكْفِي أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم سلام پھیرتے وقت «السلام عليكم السلام عليكم» کہتے تھے، (مسعر نے اپنے ہاتھ سے دائیں بائیں دونوں طرف اشارہ کر کے بتایا) تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اپنے ہاتھ اس طرح کرتے ہیں گویا شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں، پھر وہ اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں اپنے بھائی کو سلام کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1319]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ابتدا میں) جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“ کہتے اور ساتھ ہاتھوں کو بھی دائیں بائیں اٹھاتے تھے۔ (یعنی دائیں طرف سلام کے وقت دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کے وقت بائیں طرف ہاتھ اٹھاتے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیکھا تو) فرمایا: ”انہیں کیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے (دائیں بائیں) اشارے کرتے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ کیا یہ کافی نہیں کہ نمازی اپنے ہاتھ اپنی ران ہی پر رکھے اور زبان سے اپنے دائیں اور بائیں اپنے ساتھیوں کو سلام کہہ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1322
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ:" فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ قَالَ: يَعْنِي وَذَكَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ".
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہنے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ۱؎ کہنے کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1322]
حضرت واسع بن حبان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ آپ نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے اور (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہتے تھے اور بائیں طرف «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، أنظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ داہنی جانب والوں کی تکریم لیے داہنی طرف سلام پھیرتے وقت «ورحمۃاللہ» کا اضافہ فرماتے تھے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ہی پر اکتفا کرتے تھے، پچھلی روایت میں بائیں طرف بھی «ورحمۃاللہ» کہنے کا ذکر ہے، اور اسی پر عمل ہے، شاید آپ کبھی کبھی اسے چھوڑ دیتے رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، عَنِ ابْنِ دَاوُدَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1323]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی دائیں طرف فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ اور بائیں طرف فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 189 (996)، سنن الترمذی/فیہ 106 (295)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 28 (914)، (تحفة الأشراف: 9504)، مسند احمد 1/390، 406، 408، 409، 414، 444، 448، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1324 مختصراً، 1325، 1326 بنحوہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1327
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ , عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ , إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب ہم سلام پھیرتے تھے تو ہاتھوں کے ساتھ بھی اشارہ کرتے اور کہتے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“، ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ جب تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے آخر میں) سلام کہے تو اپنے ساتھی کی طرف منہ موڑے۔ ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح