🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : استقبال الإمام الناس بوجهه في الخطبة
باب: امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الثَّانِيَةِ وَسَلَّمَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ وَإِلَّا أَمَرَ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , قَالَ:" تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" , فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے، تین بار کہتے: صدقہ کرو، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1577]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عیدگاہ تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ جب دوسری رکعت کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ سب لوگ (اپنی اپنی جگہوں پر) بیٹھے رہتے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر بھیجنے کی ضرورت محسوس فرماتے تو لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ وغیرہ کرنے کا حکم دیتے۔ تین دفعہ فرماتے: صدقہ کرو۔ تو صدقہ کرنے والی اکثر عورتیں ہی ہوتیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 6 (304)، العیدین 6 (956)، الزکاة 44 (1462)، صحیح مسلم/الإیمان 34 (80) مطولاً، العیدین (889)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 158 (1288)، (تحفة الأشراف: 4271)، مسند احمد 3/36، 57 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی (جو برتن میں بچا تھا) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 137]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ کے مقام) بطحاء میں دیکھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی لے کر (خیمے سے) نکلے۔ لوگ تیزی سے ان کی طرف بھاگے۔ مجھے بھی اس میں سے کچھ پانی مل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور آپ نے (اسے سامنے رکھ کر) لوگوں کو نماز پڑھائی۔ گدھے، کتے اور عورتیں آپ کے (سترے کے) آگے سے گزرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3566)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، (تحفة الأشراف: 11818)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 17 (376)، 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، 42 (5859)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449)، وأعادہ المؤلف برقم: 773 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 748
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ" يَرْكُزُ الْحَرْبَةَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے سامنے) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 748]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے نیزہ گاڑ لیتے، پھر اس کی طرف نماز پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 92 (498)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8172)، مسند احمد 2/13، 18، 142، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کھلا میدان ہو یا بند مکان، حتیٰ کہ مسجد میں بھی امام اور منفرد سب کے لیے سترہ فرض ہے، مساجد میں دیوار، کھمبا یا کسی آدمی ہی کو سہی سترہ بنا لے، تو وہ آدمی اس کی نماز ختم ہونے تک اس کے سامنے بیٹھا رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ". قَالَ يَحْيَى: رَفَعَهُ شُعْبَةُ.
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو باطل کر دیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے تھے: حائضہ عورت اور کتا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 752]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے پوچھا: کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حیض والی عورت اور کتا۔حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: حضرت شعبہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 110 (703)، سنن ابن ماجہ/إقامة 38 (949)، مسند احمد 1/437، (تحفة الأشراف: 5379)، (من طریق شعبة مرفوعاً) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 754
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قال:" زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُزْجَرَا وَلَمْ يُؤَخَّرَا".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک بادیہ میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 754]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بستی میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے تشریف لائے۔ ہمارے ہاں ایک چھوٹی سی کتیا اور ایک گدھی تھی جو چرتی پھرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور یہ دونوں آپ کے آگے تھیں، نہ انھیں روکا گیا اور نہ پیچھے ہٹایا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(اس کے راوی ’’محمد بن عمر‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت ثقات کی روایات کے خلاف ہے) (منکر) سنن ابی داود/الصلاة 114 (718)، (تحفة الأشراف: 11045)، مسند احمد 1/211، 212»
قال الشيخ الألباني: منكر ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (718) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ فَرَكَزَ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑے میں نکلے، اور آپ نے اپنے سامنے ایک برچھی گاڑی، پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، اور اس کے پیچھے سے کتے، عورتیں اور گدھے گزرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 773]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلے (جوڑے) میں تشریف لائے، ایک برچھا گاڑا اور اس کی طرف نماز پڑھی۔ کتے، گدھے اور عورتیں اس کے آگے سے گزرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 17 (376)، الأذان 18 (633)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن ابی داود/الصلاة 34 (520)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11808)، مسند احمد 4/307، 308، 309 (بعضھم لم یذکر الحلة) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1566
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1566]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن چھوٹا نیزہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر اسے گاڑ لیتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 13 (973)، 14 (9772)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 164 (1304)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9597)، مسند احمد 2/98، 145، 151، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں