سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : الترغيب في قيام الليل
باب: قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1609
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ , قَالَ:" ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 13 (1144)، بدء الخلق 11 (3270)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (774)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 174 (1330)، (تحفة الأشراف: 9297)، مسند احمد 1/375، 427 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض لوگوں نے کہا کہ کان میں شیطان کا پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک یہ کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لیے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1608
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا أَيِ ارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ أُخْرَى، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ كُلُّهَا فَيُصْبِحُ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہو جاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہشاس بشاس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بد دل اور سست ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 12 (1142)، بدء الخلق 11 (3269)، موطا امام مالک/المسافرین 28 (776)، (تحفة الأشراف: 13687)، سنن ابی داود/الصلاة 307 (1306)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 174 (1329)، موطا امام مالک/ صلاة السفر 25 (95)، مسند احمد 2/243، 253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1610
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا , قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فُلَانًا نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ الْبَارِحَةَ حَتَّى أَصْبَحَ , قَالَ:" ذَاكَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کل کی رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: ”اس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1609 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن