سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب : اسم الرجل الرضا
باب: گزشتہ سند میں وارد سعید بن جبیر کے نزدیک پسندیدہ آدمی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ صَلَاةٌ صَلَّاهَا مِنَ اللَّيْلِ فَنَامَ عَنْهَا كَانَ ذَلِكَ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكَتَبَ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی رات میں کسی نماز کا عادی ہو، اور کسی رات وہ نیند کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے، تو یہ اس پر اللہ کی طرف سے کیا ہوا صدقہ ہو گا، اور وہ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کی کوئی مقرر شدہ نماز ہو جسے وہ لازماً رات کو پڑھتا ہو، لیکن کسی دن (اتفاقاً) وہ سویا رہا (اور اسے نہ پڑھ سکا) تو نیند اس کے لیے صدقہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے اور وہ اس کے لیے اس کی (مقررہ) نماز کا ثواب لکھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت کی سند میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ گذشتہ سند میں سعید بن جبیر کے نزدیک پسندیدہ شخص کا نام اسود بن یزید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1785
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رِضًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ , وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ".
سعید بن جبیر ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے اس نے انہیں خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1785]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں ان کے نزدیک پسندیدہ شخص نے بتایا کہ ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو رات کو نفل نماز پڑھنے کی عادت ہو، پھر کسی دن اس پر نیند غالب آ جائے (اور وہ نفل نماز نہ پڑھ سکے) تو اللہ تعالیٰ (اس دن بھی) اس (معمول کی) نماز کا اجر اس کے لیے لکھ دیتا ہے اور اس کی نیند اس کے لیے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) صدقہ بن جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 310 (1314)، (تحفة الأشراف: 16007)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 1 (1)، مسند احمد 6/63، 72، 180 (صحیح) (مبہم راوی کا نام آگے آ رہا ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1788
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ حَتَّى أَصْبَحَ كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , خَالَفَهُ سُفْيَانُ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بستر پر آئے، اور وہ رات میں قیام کی نیت رکھتا ہو، پھر اس کی دونوں آنکھیں اس پر غالب آ جائیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے تو اس کے لیے اس کی نیت کا ثواب لکھا جائے گا، اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی جانب سے اس پر صدقہ ہو گی“۔ سفیان ثوری نے حبیب بن ابی ثابت کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1788]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جو آدمی بستر پر لیٹتے وقت نیت رکھتا ہو کہ رات کو (نماز تہجد کے لیے) اٹھے گا لیکن اسے گہری نیند آگئی اور وہ صبح تک سویا رہا تو اس کے لیے اس نماز کا ثواب لکھا جائے گا جس کی اس نے نیت کی اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی طرف سے اس پر نوازش ہوگی۔“ سفیان نے اس روایت میں حبیب بن ابی ثابت کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 177 (1344)، (تحفة الأشراف: 10937) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح