🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب : المضمضة من السويق
باب: ستو کھا کر کلی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ" صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (سوید) غزوۂ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب لشکر صہباء میں پہنچا، اور وہ خیبر سے قریب ترین علاقہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اپنا زادِ راہ لانے کا حکم دیا تو صرف ستو ہی لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ستو پانی میں بھگوئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کلی کی اور ہم نے بھی کلی ہی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجھاد 123 (2981)، المغازي 38 (4195)، الأطعمة 7 (5384)، 9 (5390)، 51 (5455)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (492)، (تحفة الأشراف: 4813)، موطا امام مالک/فیہ 5 (20)، مسند احمد 3/462، 488 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفًا، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری کی) دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 182]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (491)، (تحفة الأشراف: 18269)، مسند احمد 6/292، ولہ غیر ھذہ الطریق عن أم سلمة، راجع مسند احمد 6/306، 317، 319، 323 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 184]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور وضو نہیں فرمایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 5671)، مسند احمد 1/366، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطہارة 50 (207)، الأطعمة 18 (5404)، صحیح مسلم/الحیض 24 (354)، سنن ابی داود/الطہارة 75 (187)، مسند احمد (1/226، 227، 241، 244، 253، 254، 258، 264، 267، 272، 273، 281، 336، 351، 352، 356، 361، 363، 365، 366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ" آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دو کاموں میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کام یہ تھا کہ آپ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے) سے وضو نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 75 (192)، (تحفة الأشراف: 3047)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، مسند احمد 3/304، 307، 322، 363، 375، 381، بغیر ھذا اللفظ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں