🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : الكافور في غسل الميت
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1891
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا , قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ,
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو (اور) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1891]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ اگر ضرورت محسوس کرو تو، پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دینا اور آخری دفعہ کافور یا کچھ کافور ڈال لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اس کو اس میں لپیٹ دینا۔ (راویٔ حدیث) ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ نے کہا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا۔ اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نے ان کی تین مینڈھیاں کنگھی سے بنا دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1882
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو (اور) جب تم (غسل سے) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1882]
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کی وفات کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر ضرورت ہو تو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور ڈال دو یا تھوڑا سا کافور شامل کر دو اور فارغ ہو کر مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہ بند دیا اور فرمایا: اسے اس کے بدن پر لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، والجنائز 8-17 (1253-1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1458)، (تحفة الأشراف: 18094)، موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد 6/84، 85، 407، 408، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام: 1887، 1888، 1891، 1894 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ۲؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1887
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1887]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت محسوس کرو، تو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ تھوڑا سا کافور بھی شامل کر دو، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کر دینا۔ چنانچہ جب ہم نے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اس کو اس میں لپیٹ کر پھر کفن دینا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" ‏.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا (اور) فرمایا: اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی وفات پا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو، پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخری دفعہ کافور ڈال دینا یا تھوڑا سا کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: (کفن دینے سے پہلے) اس میں اس کو لپیٹ دینا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ:" نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں تو آپ نے ہمیں انھیں غسل دینے کا حکم دیا اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو تو غسل دینا۔ میں نے کہا: جی طاق؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور آخری دفعہ کافور ڈال لینا۔ یا کچھ کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب فارغ ہونا تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم (غسل سے) فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔ آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: (سب سے پہلے) اسے اس میں لپیٹو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18143) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ:" الْفُفْنَهَا فِيهِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ (بصرہ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کی پتیوں) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار (تہبند) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
حضرت ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جو کہ انصار میں سے تھیں، اپنے ایک بیٹے کی خبر لینے کے لیے آئی تھیں مگر اسے (زندہ) نہ پایا۔ انھوں نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور بھی ڈال دو یا تھوڑا سا کافور شامل کر دو۔ اور جب غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئیں (اور ہم نے آپ کو اطلاع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اس سے زائد کچھ نہ فرمایا۔ (راویٔ حدیث) ایوب نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں؟ (راویٔ حدیث) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے (ایوب بن ابی تیمیہ سے) پوچھا: آپ کے فرمان «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» اسے اس میں لپیٹ دو کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسے اس کا ازار بنایا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ اسے اس میں لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ , وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا: انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر (کے پتوں) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: اسے (ان کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، غسل دو۔ اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور ڈال دو یا کچھ کافور ڈالو۔ جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اس کے بدن پر اسے لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 12 (1257)، (تحفة الأشراف: 18104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں