🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب : الصلاة على القبر
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2026
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال الشَّيْبَانِيُّ , أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ" , قِيلَ: مَنْ حَدَّثَكَ، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2026]
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جنہوں نے خود دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک علیحدہ بنی ہوئی قبر کے قریب سے گزرے تو آپ نے اپنے صحابہ کی اپنے پیچھے صف بنائی اور جنازہ پڑھایا۔ (شعبی سے) پوچھا گیا: آپ کو کس صحابی نے بیان فرمایا؟ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" , فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ:" أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا (تو) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو (رات میں) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے صحابہ کے ساتھ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکین لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ اس کا جنازہ رات کو لے جایا گیا اور صحابہ نے پسند نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائیں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی گئی۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمھیں کہا نہیں تھا کہ مجھے اس کی اطلاع دینا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے رات کے وقت آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف چلے اور اس کی قبر پر لوگوں کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ (یعنی جنازہ پڑھا۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 137)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (15)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1971، 1983 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ:" إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا" , فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ , قَالَ:" فَانْطَلِقُوا" فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، (رات) ہم آپ کے پاس آئے (بھی) تھے، (لیکن) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: چلو! (اور) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھائی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مسکین عورت (مدینے کے مضافات) عوالی میں بیمار ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اس (کی صحت) کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے، نیز آپ نے فرمایا: اگر وہ فوت ہو جائے تو اسے دفن نہ کرنا یہاں تک کہ میں اس کا جنازہ پڑھوں۔ آخر وہ فوت ہو گئی تو لوگ اس کا جنازہ لے کر عشاء کے بعد مدینہ منورہ میں آئے لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتے پایا۔ انہوں نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، خود ہی جنازہ پڑھا اور اسے بقیعِ غرقد میں دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو دفن بھی ہو چکی۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے مگر ہم نے آپ کو سوتے پایا اور آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: چلو۔ آپ چلے۔ وہ لوگ بھی آپ کے ساتھ چلے حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبر کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ (آپ کے حکم سے) آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1983
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ شَيْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ , فَقَالَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" فَمَاتَتْ لَيْلًا , فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا , فَقَالُوا: كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَى قَبْرَهَا" فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1983]
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ علاقۂ عوالی میں ایک عورت بیمار ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی اور عیادت بہت زیادہ فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت کی عیادت کے موقع پر) فرمایا: جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ وہ رات کو فوت ہوئی تو انہوں نے (خود ہی جنازہ پڑھ کر) اسے دفن کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ کی۔ جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے (پوری صورتِ حال گوش گزار کی اور) عرض کیا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے، اس کا جنازہ پڑھا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عوالی مدینہ سے جنوب میں بلندی پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2024
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فُلَانٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا , ثُمَّ قَالَ:" لَا يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي لَهُ رَحْمَةٌ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (بقیع کی طرف) نکلے تو آپ نے ایک تازہ قبر دیکھی۔ آپ نے فرمایا: یہ قبر کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کی فلاں لونڈی کی قبر ہے، آپ نے اسے پہچان لیا، یہ ظہر کے وقت فوت ہوئی تھی۔ آپ اس وقت روزے کی حالت میں دوپہر کے وقت آرام فرما رہے تھے۔ ہم نے اس کی خاطر آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (قبر کے رخ) کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بنائی اور آپ نے چار تکبیریں کہیں (یعنی مکمل جنازہ پڑھا۔) پھر فرمایا: جب تک میں تم میں موجود ہوں، کوئی شخص بھی فوت ہو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میرا جنازہ پڑھنا اس کے لیے رحمت کا سبب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1528)، (تحفة الأشراف: 11824)، مسند احمد 4/388 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2025
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مُنْتَبِذٍ:" فَأَمَّهُمْ وَصَفَّ خَلْفَهُ" , قُلْتُ: مَنْ هُوَ يَا أَبَا عَمْرٍو؟، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے (شعبی) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2025]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اس صحابی نے بتایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک علیحدہ بنی ہوئی قبر کے پاس سے گزرے تھے، آپ نے امامت فرمائی اور انھوں (ابن عباس اور دوسرے لوگوں) نے آپ کے پیچھے صف بندی کی۔ شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: وہ کون سے صحابی ہیں؟ انھوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5، 54 (1247)، 55 (1319)، 59 (1324)، 66 (1326)، 69 (1336)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، مسند احمد 1/224، 283، 338 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2027
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2027]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اس کے دفن کیے جانے کے بعد جنازہ پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2407) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں