🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
117. باب : أرواح المؤمنين
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2081
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ , فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ایک بندے نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا (سخت) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، (تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2081]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ایک آدمی نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا تھا (بہت گناہ کیے تھے) حتیٰ کہ اس کی وفات کا وقت آگیا، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس لینا، پھر ہوا والے دن میری راکھ سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ہو گا۔ اس کے گھر والوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کو، جس میں اس کے جسم کا کوئی حصہ تھا، حکم دیا کہ جو کچھ تجھ میں اس کا حصہ ہے، نکال دے۔ تو ناگہاں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پورے کا پورا کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کس بنا پر کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی بنا پر۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3481)، والتوحید 35 (7506)، صحیح مسلم/التوبة 5 (2756)، سنن ابن ماجہ/الزھد 30 (4255)، (تحفة الأشراف: 12280)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (51)، مسند احمد 2/269 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2082
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے اعمال کے بارے میں برا گمان رکھتا تھا (کہ وہ قابل معافی نہیں)، لہٰذا جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس کر آٹا کر دینا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کی روح نکال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے (اس کا ڈھانچا حاضر کیا اور) فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے جو کچھ کیا، تیرے ڈر سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3479)، والرقاق 25 (6480)، (تحفة الأشراف: 3312)، مسند احمد 5/383، 395، 407 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں