سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. باب : أرواح المؤمنين
باب: مومنوں کی روحوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2082
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ , قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ , مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے اعمال کے بارے میں برا گمان رکھتا تھا (کہ وہ قابل معافی نہیں)، لہٰذا جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس کر آٹا کر دینا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کی روح نکال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے (اس کا ڈھانچا حاضر کیا اور) فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے جو کچھ کیا، تیرے ڈر سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3479)، والرقاق 25 (6480)، (تحفة الأشراف: 3312)، مسند احمد 5/383، 395، 407 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6480
| إذا أنا مت فخذوني فذروني في البحر في يوم صائف ففعلوا به فجمعه الله ثم قال ما حملك على الذي صنعت قال ما حملني إلا مخافتك فغفر له |
سنن النسائى الصغرى |
2082
| إذا أنا مت فأحرقوني ثم اطحنوني ثم اذروني في البحر فإن الله إن يقدر علي لم يغفر لي قال فأمر الله الملائكة فتلقت روحه قال له ما حملك على ما فعلت قال يا رب ما فعلت إلا من مخافتك |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2082 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2082
اردو حاشہ:
دفن کے بعد ”روح“ کا ”جسم“ سے اتنا تعلق ہو جاتا ہے کہ سوال و جواب ہوسکیں، مگر یہ دنیوی زندگی سے یکسر مختلف ہے، پھر روح کو (علیین) اور (سجین) میں بھیجا جاتا ہے۔ (علیین) اللہ تعالیٰ کے عرش کے پاس ایک مقام ہے اور (سجین) زمین کے نیچے جہنم کے قریب، لیکن اس کا تعلق اپنے جسم، خواہ وہ کسی حال میں ہو، سے ایک حد تک قائم رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن دوبارہ ارواح اجسام میں داخل ہو جائیں گی۔ یاد رہے روح اور جسم کا تعلق (برزخی زندگی میں) ہماری سمجھ میں آنے والی چیز نہیں۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ ہمارے دماغ ایسی چیزیں سمجھنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسے بھینس ریاضی نہیں سمجھ سکتی، اگرچہ دو اور دو چار ہی ہے۔
دفن کے بعد ”روح“ کا ”جسم“ سے اتنا تعلق ہو جاتا ہے کہ سوال و جواب ہوسکیں، مگر یہ دنیوی زندگی سے یکسر مختلف ہے، پھر روح کو (علیین) اور (سجین) میں بھیجا جاتا ہے۔ (علیین) اللہ تعالیٰ کے عرش کے پاس ایک مقام ہے اور (سجین) زمین کے نیچے جہنم کے قریب، لیکن اس کا تعلق اپنے جسم، خواہ وہ کسی حال میں ہو، سے ایک حد تک قائم رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن دوبارہ ارواح اجسام میں داخل ہو جائیں گی۔ یاد رہے روح اور جسم کا تعلق (برزخی زندگی میں) ہماری سمجھ میں آنے والی چیز نہیں۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ ہمارے دماغ ایسی چیزیں سمجھنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسے بھینس ریاضی نہیں سمجھ سکتی، اگرچہ دو اور دو چار ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2082]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2082 in Urdu
ربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي