🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : ذكر الاختلاف على سليمان بن مهران في حديث عائشة في تأخير السحور واختلاف ألفاظهم
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2160]
ابو عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک روزہ جلدی (آفتاب غروب ہوتے ہی) کھولتے ہیں اور سحری تاخیر سے (آخر وقت میں) کھاتے ہیں اور دوسرے صحابی (احتیاطاً) افطار دیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی کھا لیتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں: ان میں سے افطار اول وقت اور سحری آخر وقت کرنے والا کون ہے؟ میں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 9 (1099)، سنن ابی داود/الصوم 20 (2354)، سنن الترمذی/الصوم 13 (702)، (تحفة الأشراف: 17799)، مسند احمد 6/48، 173 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" فِينَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْفِطْرَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2161]
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہم میں دو حضرات ہیں، ان میں سے ایک افطاری اول وقت اور سحری آخر وقت کرتے ہیں اور دوسرے صاحب افطاری دیر سے اور سحری جلدی کر لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان میں سے افطاری اول وقت اور سحری آخر وقت میں کون کرتا ہے؟ میں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطاری اور نمازِ مغرب جلدی ادا کرتے ہیں اور دوسرے افطاری اور نمازِ مغرب میں تاخیر کرتے ہیں۔ فرمانے لگیں: ان میں سے کون افطاری اور نمازِ مغرب میں جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل یہی تھا۔ دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں